ٹرمپ کے ممکنہ ‘اعلانِ فتح’ پر ایران کا ردعمل کیا ہوگا؟ امریکی خفیہ اداروں کو تشویش

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکی خفیہ ادارے ٹرمپ کے ممکنہ ‘اعلانِ فتح’ پر ایرانی ردعمل پر تشویش میں مبتلا ہے کہ ایران اسے امریکی پسپائی اور اپنی ‘مزاحمتی پالیسی’ کی فتح قرار دے گا۔تفصیلات کے مطابق عالمی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے امریکی خفیہ اداروں کی ایک حساس رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ ‘اعلانِ فتح’ کو تہران اپنی بڑی جیت کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔امریکی حکام اس وقت اس پیچیدہ صورتحال اور اس کے سیاسی اثرات پر گہری سوچ بچار کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس اداروں کو خدشہ ہے کہ اگر صدر ٹرمپ ایران کے خلاف کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے خطے سے امریکی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کرتے ہیں، تو ایران اسے امریکی پسپائی اور اپنی ‘مزاحمتی پالیسی’ کی فتح قرار دے گا۔تہران اس موقع کو عالمی سطح پر یہ ثابت کرنے کے لیے استعمال کرے گا کہ دہائیوں پر محیط امریکی دباؤ اور پابندیاں اسے جھکانے میں ناکام رہی ہیں۔خفیہ ادارے کی رپورٹ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سیاسی بوجھ کا بھی ذکر کیا گیا ہے ، رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل کشیدگی اب امریکی سیاست پر ایک بوجھ بن چکی ہے، جس سے نکلنے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اس تنازع کے اثرات براہِ راست آئندہ امریکی مڈ ٹرم انتخابات پر پڑ سکتے ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔