ہتک عزت کے ایک معاملے کی سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ نے تلخ تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے معاملے کو انا کی لڑائی قرار دیتے ہوئے اپنے سخت ریمارکس میں کہا کہ فریقین کے درمیان ’انا کی لڑائی‘ عدالتی نظام کو درہم برہم کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس جتیندر ایس جین کی سنگل بنچ نے گزشتہ روز حکم دیا کہ اس معاملے کو آئندہ 20 سال تک سماعت کے لیے نہ لایا جائے اور اسے 2046 کے بعد سماعت کے لیے درج کر دیا۔یہ مقدمہ 90 سال کی تارینی بین اور 57 سال کے دھونی دیسائی نے 2017 میں کِلک راج بھنسالی اور دیگر کے خلاف دائر کیا تھا۔ مقدمہ 2015 میں ’شیام کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی‘ کی سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ ان واقعات کی وجہ سے انہیں ذہنی اذیت اور تکلیف ہوئی جس کے عوض انہوں نے 20 کروڑ روپئے معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔بامبے ہائی کورٹ نے ’ای وی ایم‘ کی جانچ کا دیا حکم، انتخابی تاریخ میں پہلی بار سنایا گیا ایسا فیصلہجسٹس جین نے کہا کہ یہ ان معاملات میں سے ایک ہے جہاں زندگی کے آخری پڑاؤ پر فریقین کے درمیان انا کی لڑائی نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ اس سے عدالت ان معاملات کو نہیں دیکھ پاتی جنہیں واقعی ترجیح کی ضرورت ہوتی ہے۔ عدالت نے پہلے تجویز دی تھی کہ غیر مشروط معافی مانگ کر اس تنازعہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ 90 سالہ مدعی اب بھی ہتک عزت کے مقدمے کی پیروی پر بضد ہے۔اس دوران عدالت نے واضح کیا کہ صرف ’سپر سینئر سٹیزن‘ ہونے کی وجہ سے اس معاملے کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔ اپنے حکم میں جج نے کہا کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا، سوائے اس کے کہ یہ معاملہ اگلے 20 سال تک نہ اٹھایا جائے، اسے 2046 کے بعد درج کیا جائے۔مالیگاؤں دھماکہ کیس: اسپیشل کورٹ کے فیصلہ کو بامبے ہائی کورٹ نے پلٹا، 4 ملزمین ہوئے بریاس سے قبل 27 مارچ 2025 کو ایک دیگر بنچ نے خبردار کیا تھا کہ اگر درخواست گزار کے وکیل آئندہ تاریخ پر پیش نہ ہوئے تو معاملے کو خارج کر دیا جائے گا۔ 2019 میں بھی عدالت نے فریقین کو گواہوں کی فہرست اور متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کا وقت دیا تھا لیکن تنازعہ حل ہونے کے بجائے طول پکڑتا رہا۔