وائٹ ہاؤس میں فائرنگ کا نشانہ کون تھا؟ اہم انکشاف

Wait 5 sec.

امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیہ پر فائرنگ کا نشانہ تھے۔امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اتوار کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اہلکار ممکنہ طور پر اس مشتبہ شخص کا نشانہ تھے جس نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے عشائیے کی حفاظت کرنے والے ایک سیکیورٹی ایجنٹ پر گولی چلائی تھی۔اس شخص نے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں ایک چیک پوائنٹ پر سیکرٹ سروس ایجنٹ پر گولی چلائی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو عشائیہ سے سخت سیکورٹی حصار میں باہر نکالا گیا۔ٹوڈ بلانچ نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے ممکنہ طور پر ٹرین کے ذریعے لاس اینجلس سے شکاگو اور پھر واشنگٹن کا سفر کیا، ایسا لگتا ہے کہ وہ درحقیقت، انتظامیہ میں کام کرنے والے لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے نکلا تھا، جس میں صدر بھی شامل تھے۔خفیہ بال روم ہوتا تو کل کا واقعہ پیش نہ آتا، ٹرمپواقعہگزشتہ شب واشنگٹن کے ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی عشائیہ تقریب میں ایک ملزم نے صدر ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کی۔ سیکیورٹی عملے نے ملزم کو گرفتار کر لیا، جس نے دوران تحقیقات سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا نشانہ کون تھا۔سی بی ایس نیوز نے دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی عشائیہ تقریب میں فائرنگ کے واقعہ میں گرفتار مشتبہ شخص نے دوران تفتیش قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ انتطامیہ کے بعض حکام کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔دوسری جانب امریکی وفاقی پراسیکیوٹرز نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن میں ہونے والے فائرنگ کے اس واقعے میں گرفتار مشتبہ شخص کو پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔وفاقی پراسیکیوٹر جینین پیرو کے مطابق ملزم پر آتشیں اسلحہ کے ذریعے پرتشدد جرم کے دوران کارروائی کرنے اور ایک وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔