برسلز(24 اپریل 2026): یورپی یونین نے یوکرین کی فوجی امداد کے لیے 90 ارب یورو کے بڑے قرض اور روس کے خلاف پابندیوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور روس پر معاشی دباؤ میں اضافہ کرنا ہے۔یورپی یونین کے نئے منصوبے کے تحت یوکرین کو سال 2026 اور 2027 کے دوران دفاعی بجٹ کے لیے مجموعی طور پر 90 ارب یورو فراہم کیے جائیں گے۔ اس رقم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر سال یوکرین کو 45، 45 ارب یورو دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی زمین کا دفاع بہتر طریقے سے کر سکے۔یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اس فیصلے کا بھرپور خیر مقدم کیا ہے۔ وان ڈیر لیین کا کہنا تھا کہ اب یورپی یونین روس پر پابندیوں اور یوکرین کی امداد، دونوں محاذوں پر تیزی سے کام کرے گی۔یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالس نے اس موقع پر کہا کہ روس کی جنگی معیشت اس وقت شدید تناؤ کا شکار ہے جبکہ اس امداد سے یوکرین کو بڑا فروغ ملے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین کی مدد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک صدر پیوٹن یہ نہ سمجھ لیں کہ یہ جنگ ان کے لیے کسی فائدے کی حامل نہیں ہے۔ یورپی یونین کا عزم ہے کہ وہ یوکرین کو اپنی زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرتی رہے گی۔