واشنگٹن (26 اپریل 2026): امریکا میں پیش آنے والے فائرنگ کے حالیہ واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بظاہر اس حملے کا تعلق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی یا کسی ممکنہ جنگ سے نہیں ہے، اور ابتدائی اندازوں کے مطابق حملہ آور نے انفرادی طور پر یہ قدم اٹھایا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایسے حملے انھیں ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ محاذ پر کامیابی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتے، تاہم ان کے خیال میں موجودہ واقعہ کا ایران سے کوئی براہِ راست تعلق نظر نہیں آتا۔انھوں نے واقعے کو آزادیٔ اظہار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔ ان کے مطابق فائرنگ کافی فاصلے سے کی گئی اور حملہ آور کو تقریباً 150 فٹ کے فاصلے پر ہی روک لیا گیا، جب کہ وہ مجمع کے درمیان سے تیزی سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔صدر نے بتایا کہ تقریب میں بڑی تعداد میں افراد موجود تھے، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک سیکیورٹی اہلکار کو گولی لگی، لیکن بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے وہ محفوظ رہا۔ انھوں نے سیکیورٹی اداروں، خصوصاً سیکرٹ سروس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں نے بہادری اور تیز رفتاری سے صورت حال کو قابو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حملہ آور کو قابو کیا گیا تو وہ مزاحمت کرتے ہوئے اہلکاروں کو کاٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔صدر ٹرمپ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر انھیں فائرنگ کی آواز کسی ٹرے کے گرنے جیسی محسوس ہوئی، جب کہ خاتونِ اوّل فوراً سمجھ گئیں کہ معاملہ سنگین ہے۔ چند ہی سیکنڈز میں انھیں اور خاتونِ اوّل کو اسٹیج سے ہٹا لیا گیا۔وائٹ ہاؤس کریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران حملہ آور کی فائرنگ، ٹرمپ، میلانیا، وینس محفوظ رہے، حملہ آور پکڑا گیاانھوں نے مزید کہا کہ ہال خود محفوظ تھا اور حملہ آور کافی فاصلے پر موجود تھا، اس لیے وہ کسی بھی صورت صدر تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس واقعے سے قبل کسی قسم کا سیکیورٹی الرٹ بھی موجود نہیں تھا، تاہم مزید تحقیقات کے بعد صورت حال مزید واضح ہو جائے گی۔صدر کے مطابق حملہ آور کی شناخت کیلیفورنیا کے رہائشی کے طور پر ہوئی ہے، اور اس کے بارے میں مزید معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔ انھوں نے حملہ آور کے عمل کو ’’گھٹیا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر معاشرے میں خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ان پر حملہ ہوا ہو، اس سے قبل پینسلوینیا میں بھی ان پر فائرنگ کی جا چکی ہے، تاہم ایسے واقعات ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ میں بڑے امریکی صدور کو بھی اس طرح کے خطرات کا سامنا رہا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے ملک کو عظیم بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے اھہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ’’اگر میں اثر و رسوخ نہ رکھتا تو مجھ پر حملہ نہ ہوتا۔‘‘صدر نے کہا کہ اس واقعے کے باوجود تقریبات کو مکمل طور پر منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ تقریب سے خطاب جاری رکھتے، تاہم سیکیورٹی اداروں کی درخواست پر تقریب کو منسوخ کرنا پڑا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ 30 دن بعد یہ تقریب دوبارہ منعقد کی جائے گی اور اس بار پہلے سے بھی بڑی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں کے ذریعے انھیں یا ملک کو پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا۔