عام آدمی پارٹی کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ پارٹی کے اہم لیڈر راگھو چڈھا سمیت 7 عآپ اراکین راجیہ سبھا کے پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سیاسی ماحوال اچانک گرم ہو گیا ہے۔ عآپ اور بی جے پی دونوں کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ لیڈران کے پارٹی بدلنے سے ناراض عآپ اب ایکشن کے موڈ میں نظر آ رہی ہے۔ عآپ کے سینئر لیڈر سنجے سنگھ نے اعلان کیا کہ وہ راجیہ سبھا کے 3 اراکین راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد انہیں باضابطہ طور پر نااہل قرار دینے کا عمل شروع کریں گے۔मैं माननीय राज्यसभा सभापति को एक पत्र प्रस्तुत करूँगा, जिसमें राघव चड्ढा, अशोक मित्तल और संदीप पाठक को भारतीय जनता पार्टी (BJP) में शामिल होने के कारण राज्यसभा की सदस्यता से अयोग्य घोषित करने की मांग की जाएगी, क्योंकि यह संविधान की दसवीं अनुसूची के अंतर्गत स्वेच्छा से अपनी पार्टी…— Sanjay Singh AAP (@SanjayAzadSln) April 24, 2026سنجے سنگھ کا یہ بیان راگھو چڈھا، سندیپ پاٹھک اور اشوک متل کے اروند کیجریوال کی قیادت والی پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی راجیہ سبھا کے پریذائیڈنگ آفیسر سے آئین کے 10ویں شیڈول کے نفاذ کے لیے رجوع کرے گی، جس میں پارٹی بدلنے کی بنیاد پر نااہلی کی دفعات درج ہیں۔ پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ ’’میں راجیہ سبھا چیئرمین کو ایک خط سونپوں گا، جس میں مطالبہ کیا جائے گا کہ بی جے پی میں شامل ہونے کی وجہ سے راگھو چڈھا، اشوک متل اور سندیپ پاٹھک کی راجیہ سبھا رکنیت ختم کی جائے۔ کیونکہ یہ آئین کے دسویں شیڈول کے تحت اپنی اصل پارٹی کی رکنیت رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کے مترادف ہے۔‘‘آئیے ذیل میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہندوستانی آئین کا 10واں شیڈول کیا ہے؟ اور اس کی وہ کیا دفعات ہیں جن کے ذریعے عام آدمی پارٹی ان لیڈران کے خلاف کارروائی کرنے جا رہی ہے۔اگر کوئی منتخب رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ اپنی پارٹی چھوڑ دیتا ہے، تو اسے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔اگر کوئی رکن پارٹی پالیسی کے خلاف جا کر ووٹ دیتا ہے، تو اسے بھی اس قانون کے تحت نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔پارٹی کی طرف سے ’وہپ‘ جاری ہونے کے باوجود اگر کوئی رکن ووٹ نہیں ڈالتا، تب بھی وہ اس قانون کی زد میں آ سکتا ہے۔واضح رہے کہ دَل بدل قانون (اینٹی ڈیفیکشن لاء) سے بچنے کا ایک طریقہ بھی موجود ہے۔ اگر ایک یا 2 اراکین اسمبلی یا اراکین پارلیمنٹ پارٹی چھوڑتے ہیں تو ان کے خلاف اس قانون کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی یا اراکین پارلیمنٹ کے دو تہائی اراکین ایک ساتھ پارٹی چھوڑتے ہیں، تو یہ قانون نافذ نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں ان تمام اراکین کی رکنیت برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راگھو چڈھا نے بار بار یہ بتایا کہ ان کے ساتھ عآپ کے دو تہائی اراکین پارلیمنٹ موجود ہیں۔