شمال مغربی ہندوستان کے میدانی علاقوں اور وسطی ہندوستان میں شدید گرمی کا قہر شروع ہوگیا ہے۔ آسمان سے برس رہی آگ اور صنعتی یونٹوں اور گاڑیوں سے پھیلنے والی آلودگی نے دہلی-این سی آر سمیت بڑے شہروں میں مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ بیشتر علاقوں میں گرم لہر چل رہی ہے جس کے باعث صبح 10 بجے کے بعد گھروں سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال مزید 3 سے 4 دن برقرار رہنے اور گرم لہر جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔ حالانکہ شمال مغربی ہمالیائی علاقوں اور شمال مشرق میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور بالائی علاقوں میں برفباری نے موسم کو خوشگوار بنا دیا ہے۔ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہریانہ، چنڈی گڑھ، دہلی، راجستھان، مغربی اتر پردیش اور مغربی بنگال کے گنگا کے میدانی علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے گرم لہر جاری ہے۔ اس سے ہیٹ ویو کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ آئی ایم ڈی کے مطابق جموں و کشمیر، اتراکھنڈ، آسام، اروناچل پردیش، منی پور، کرناٹک اور مہاراشٹر کے کچھ حصوں میں بارش اور تیز ہوائیں چلنے سے لوگوں کو گرمی سے راحت ملی ہے۔مغربی طلاطم کے اثر سے پہاڑوں پر بارش، میدانی علاقوں میں بڑھے گا درجہ حرارت، دہلی میں شدید گرمی کا الرٹاقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پچھلی بار دنیا کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے والی موسمی واردات ’ال نینو‘ کے سال 2026 کے وسط میں پھر سے لوٹنے کا اندیشہ ہے۔ جنیوا واقع اقوام متحدہ کے موسم اور ماحولیاتی ایجنسی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کہا کہ آئندہ مائی سے جولائی کے درمیان ال نینو کے حالات حالات پیدا ہونے کے پورے آثار ہیں اور اس کی ابتدائی علامات بھی نظر آنے لگی ہیں۔ اس سے وسطی اور مشرقی استوائی بحر الکاہل میں سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے ہواؤں، دباؤ اور بارش کے پیٹرن کو تبدیل کرتا ہے. ال نینو اور اس کے مخالف لا نینا اور عام حالات کے درمیان موسمی حالات میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ سابقہ ال نینو کی وجہ سے 2023 اب تک کا دوسرا سب سے گرم سال اور 2024 اب تک کا سب سے گرم سال بن گیا۔اس دوران اتر پردیش میں گرمی کا قہر اپنے شباب پر شدید گرمی کی لہر زوروں پر ہے۔ جمعہ کو ریاست کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی زد میں رہے۔ گرم لہر کی وجہ سے اب معمولات زندگی اور روبز مرہ کی سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں۔ پریاگ راج، وارانسی، ہردوئی، آگرہ، میرٹھ، علی گڑھ اور شاہجہاں پور جیسے شہروں میں شدید گرم لہر کا قہر برپا رہا اور دوپہر میں سڑکوں پر ہوکا نظر آیا۔ یہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 45.2 ڈگری سیلسیس کے ساتھ پریاگ راج ریاست میں سب سے زیادہ گرم رہا، جب کہ باندہ اور ہمیر پور میں بالترتیب 44.3 ڈگری سیلسیس، 44.2 ڈگری سیلسیس اور 44.3 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔مارچ کے پہلے ہفتے میں شدید گرمی کا الرٹ! گجرات سے مہاراشٹر تک درجہ حرارت میں ہوگا اضافہ، جانیں دہلی کا موسماس دوران ڈبلیو ایم او نے کہا کہ اس کی تازہ ترین ماہانہ عالمی موسمی آب و ہوا کی تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سطح سمندر کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو مئی-جولائی کے اوائل کی شروعات میں ال نینو کے حالات کی ممکنہ واپسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پیشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ اگلے 3 ماہ کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا۔