امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے کتنے تباہ کن ثابت ہوئے؟ امریکی میڈیا کی رپورٹ میں انکشاف

Wait 5 sec.

(25 اپریل 2026): امریکا-اسرائیل-ایران جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان بتائے گئے نقصان سے زیادہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع این بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے جوابی حملوں نے اس سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جتنا کہ امریکی حکام کی جانب سے عوامی سطح پر ظاہر کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور آلات کو مناسب فضائی دفاعی نظام ہونے کے باوجود ایرانی فضائی حملوں کے باعث شدید نقصان پہنچا۔اس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلیے میزائلوں، ڈرونز اور یہاں تک کہ جنگی طیاروں کا استعمال کیا۔رپورٹ میں تین سرکاری حکام، کانگریس کے دو معاونین اور معاملے سے باخبر ایک اور شخص سمیت متعدد ذرائع کے حوالے دیے گئے۔پریس ٹی وی کے مطابق پچھلی رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکا کو جدید ترین فوجی ساز و سامان سے ہاتھ دھونا پڑا جس میں قطر میں واقع العدید فوجی اڈے پر نصب ایک ارب ڈالر مالیت کا ریڈار سسٹم بھی شامل ہے۔