مغربی بنگال میں پہلے مرحلہ کی پولنگ 23 اپریل کو ہو چکی ہے، اور اب 29 اپریل کو ہونے والی دوسرے مرحلہ کی پولنگ کے لیے سیاسی تقاریب کا سلسلہ عروج پر ہے۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی آج مغربی بنگال کے 3 اہم شہروں میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ انھوں نے آج کولکاتا، جنوبی 24 پرگنہ اور ہگلی میں منعقدہ جلسۂ عام کے دوران مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی جے پی-ٹی ایم سی پر عوامی مسائل کو نظر انداز کرنے اور صرف اقتدار کی سیاست کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi ने दक्षिण 24 परगना में जनसभा को संबोधित किया।BJP और TMC ने मिलकर पश्चिम बंगाल को तबाह करने में कोई कसर नहीं छोड़ी है।जनता परेशान है- बदलाव चाहती है। ऐसे में पश्चिम बंगाल में एक जनहितैषी सरकार बनाना ही हमारा लक्ष्य है। पश्चिम बंगाल pic.twitter.com/8eO1lHnNcO— Congress (@INCIndia) April 25, 2026جنوبی 24 پرگنہ میں اپنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے مقامی ریڈی میڈ صنعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صنعت سے وابستہ افراد کو نہ ریاستی حکومت سے مدد ملی اور نہ ہی مرکزی حکومت سے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنی آواز پارلیمنٹ تک پہنچانے کے لیے ان کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر انہوں نے علامتی انداز میں کہا کہ اگر یہاں کے لوگ ان کے لیے ایک سفید ٹی شرٹ تیار کریں تو وہ اسے پہن کر لوک سبھا میں ان کی نمائندگی کریں گے۔मैंने यहां के एक उम्मीदवार से बात की तो उन्होंने बताया कि यहां पर रेडीमेड इंडस्ट्री का काम होता है। लेकिन इस इंडस्ट्री से जुड़े लोगों की ममता बनर्जी और नरेंद्र मोदी, दोनों ने कोई मदद नहीं की, इसलिए आप हमारी बात संसद में उठाइए।ऐसे में मैं आपसे कहना चाहता हूं मेरे लिए एक… pic.twitter.com/QmE5S3ick2— Congress (@INCIndia) April 25, 2026کولکاتا میں جلسے کے دوران راہل گاندھی نے تاریخی شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’سبھاش چندر بوس، مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل جیسے رہنما کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود کو طاقتور رہنما کے طور پر پیش تو کرتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر کمزور موقف اختیار کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کو صرف کانگریس ہی شکست دے سکتی ہے کیونکہ کانگریس ایک نظریاتی پارٹی ہے اور وہ بی جے پی سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi जी ने कोलकाता में जनसभा को संबोधित किया।सत्ता के लालच में BJP और TMC ने पश्चिम बंगाल की जनता का बहुत नुकसान किया है।पूरे प्रदेश में करप्शन और गुंडागर्दी का जाल पसरा है, जनता परेशान है और सरकार सिर्फ तमाशा देख रही है।ऐसे में हमारा लक्ष्य यहां के… pic.twitter.com/bebSl5ML72— Congress (@INCIndia) April 25, 2026راہل گاندھی نے اپنی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ملک کو متحد کرنا تھا، جبکہ ان کے مطابق موجودہ حکومت کی پالیسیاں تقسیم پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات اور ای ڈی کی پوچھ گچھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف اسی طرح کی کارروائیاں کیوں نہیں ہوتیں۔मैंने और कांग्रेस पार्टी के लोगों ने कन्याकुमारी से कश्मीर तक 'भारत जोड़ो यात्रा' की। उसका लक्ष्य भारत जोड़ने का था।लेकिन नरेंद्र मोदी भी एक यात्रा करते हैं, जिसका नाम भारत तोड़ो यात्रा है। इसमें वो 24 घंटे भारत तोड़ने का काम करते रहते हैं।: नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi… pic.twitter.com/uKodHyJ8Bv— Congress (@INCIndia) April 25, 2026ہگلی میں خطاب کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں 2 نظریات کے درمیان لڑائی جاری ہے... ایک طرف آئین، اتحاد اور بھائی چارے کی سیاست ہے، جبکہ دوسری طرف نفرت اور تقسیم کی سیاست۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے معاشی پالیسیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلوں نے چھوٹے تاجروں اور متوسط صنعتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ حکومت کی پالیسیوں کا فائدہ چند بڑے صنعت کاروں کو پہنچ رہا ہے جبکہ عام عوام اور نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔देश में दो विचारधाराओं के बीच लड़ाई है।एक तरफ: कांग्रेस पार्टी, संविधान, एकता और भाईचारा हैदूसरी तरफ: BJP, नफरत, हिंसा और अहंकार हैRSS-BJP के लोग देश में जहां भी जाते हैं, नफरत फैलाते हैं। एक धर्म को दूसरे धर्म से लड़ाते हैं और लोगों को डराने का काम करते है।कांग्रेस पार्टी… pic.twitter.com/IM68C7F5XM— Congress (@INCIndia) April 25, 2026راہل گاندھی نے مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست میں صنعتوں کا زوال ہوا ہے اور روزگار کے مواقع کم ہوئے ہیں۔ انہوں نے مختلف مبینہ گھوٹالوں اور بدعنوانی کے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مغربی بنگال میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور لاکھوں نوجوان روزگار کے لیے درخواستیں دے رہے ہیں، لیکن انہیں مواقع نہیں مل رہے۔ راہل گاندھی کے مطابق، مرکزی اور ریاستی دونوں ہی حکومتیں عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔जैसे BJP के MLA-MP, महिलाओं पर अत्याचार करते हैं तो BJP सरकार उनको संरक्षण देती है।वैसे ही पश्चिम बंगाल में भी सरकार आरोपियों को बचाती है। आरजी कर रेप एंड मर्डर केस का उदाहरण हमारे सामने है।यानी- कोई जवाबदेही नहीं है।: नेता विपक्ष श्री @RahulGandhi हुगली, पश्चिम… pic.twitter.com/10aICfLAdw— Congress (@INCIndia) April 25, 2026اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں اور ایسی قیادت کا انتخاب کریں جو ترقی، روزگار اور اتحاد کو فروغ دے سکے۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا کہ جس طرح بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی خواتین پر مظالم کرتے ہیں اور بی جے پی حکومت ان کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اسی طرح مغربی بنگال میں بھی حکومت ملزمین کو بچاتی ہے۔ اس تعلق سے راہل گاندھی نے آر جی کر عصمت دری و قتل کیس کی مثال لوگوں کے سامنے رکھی۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ اس طرح کے معاملوں میں کوئی جوابدہی نہیں ہے۔