اتر پردیش اس وقت شدید گرمی اور لُو کی زد میں ہے۔ ریاست کے کئی اضلاع میں درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ آج سب سے زیادہ درجہ حرارت باندا میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں پارہ 47.4 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو اس سیزن کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت مانا جا رہا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔محکمۂ موسمیات سے منسلک اتل کمار سنگھ کے مطابق نچلے فضائی حصہ میں چلنے والی گرم پچھوا ہوائیں اور اندرونی مہاراشٹر کے اطراف بننے والے اینٹی سائیکلون کا اثر ریاست کے موسم پر صاف نظر آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور لُو کا دائرہ بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔مغربی اتر پردیش کے میرٹھ، آگرہ، شاہجہاں پور، جالون، بریلی، مظفر نگر اور علی گڑھ سمیت کئی اضلاع میں لُو کے تیز جھونکے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ وہیں مشرقی اتر پردیش کے ہردوئی، بارہ بنکی، امیٹھی، بلیا، وارانسی، باندا اور پریاگ راج میں بھی حالات کم سنگین نہیں ہیں۔ ان علاقوں میں دن کے ساتھ ساتھ رات میں بھی گرمی کا اثر برقرار ہے، جس سے لوگ بے حد پریشان ہیں۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ 27 اپریل تک ریاست میں لُو کی صورتحال برقرار رہے گی۔ اس دوران درجہ حرارت میں کسی خاص کمی کی توقع نہیں ہے اور کئی مقامات پر تپش والی رات کی کیفیت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم 27 اپریل کے بعد موسم میں تبدیلی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ ایک فعال مغربی اضطراب (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے اثر سے مغربی اتر پردیش میں ہلکی سے درمیانی بارش شروع ہونے کا امکان ہے، جو آہستہ آہستہ مشرقی حصوں کی طرف بڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں درجہ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری سیلسیس تک کمی آ سکتی ہے، جس سے لوگوں کو لُو سے کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بھی 26 اور 27 اپریل کو لُو کی صورتحال بننے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر عوام کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرس نے لوگوں کو دوپہر کے وقت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے، زیادہ پانی پینے اور دھوپ سے بچاؤ کے اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال پورے صوبے کی نظریں 27 اپریل کے بعد ممکنہ موسمی تبدیلی پر مرکوز ہیں، جب شدید گرمی سے کچھ راحت ملنے کی توقع ہے۔