تائیوان حکومت نے منگل (21 اپریل) کو کہا کہ ہندوستانی مزدوروں کو لانے کا منصوبہ تبھی عمل میں لایا جائے گا جب مقامی صنعتوں میں ان کی ضرورت ہوگی اور ہندوستان طے شرائط کو مکمل کرے گا۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ دونوں شرائط مکمل ہونے پر ہی اس منصوبہ کو نافذ کیا جائے گا۔Taiwan says India migrant worker deal depends on industry demand https://t.co/Rxe7I2zXRw— The Straits Times (@straits_times) April 21, 2026واضح رہے کہ تائیوان اس وقت شرح پیدائش اور تیزی سے بڑتھی بزرگ آبادی کے مسائل سے نبردآزما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انڈونیشیا اور فلپائن جیسے ممالک کے علاوہ نئے ممالک سے بھی مزدور لانے کا آپشن تلاش رہا ہے۔ تائی پے اور نئی دہلی کے درمیان فروی 2024 میں ایک معاہدہ (ایم او یو) سائن کیا گیا تھا، جس کے تحت تائیوان میں ہندوستانی مزدروں کی بھرتی کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔تائیوان کے وزیر محنت ہنگ سُن-ہان نے رواں ماہ کی شروعات میں کہا تھا کہ پائلٹ پروگرام کے تحت 2026 میں تقریباً 1000 ہندوستانی مزدور تائیوان آ سکتے ہیں۔ حالانکہ اس منصوبہ کو لے کر سیاسی لیڈران اور عام لوگوں کے درمیان اختلاف بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے اب حکومت محتاط نظر آ رہی ہے۔ منگل کو پالیمنٹ میں سوال-جواب کے دوران وزیر محنت ہنگ سن-ہان نے کہا کہ ’’اگر صنعت کے مطالبات اور ہندوستان کی شرطیں مکمل نہیں ہوتیں تو مزدوروں کو لانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تائیوان میں اس وقت 8.7 لاکھ سے زائد غیر ملکی مزدور کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے 60 فیصد سے زائد لوگ مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زراعت کیئرگیونگ سیکٹر میں کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کی مخالفت اہم اپوزیشن پارٹی ’کومینتانگ‘ (کے ایم ٹی) نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے خواتین کی سیکورٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔کے ایم ٹی رکن پارلیمنٹ وانگ ہُنگ-ویئی نے کہا کہ تائیوان میں ایسے کئی غیر ملکی مزدور ہیں، جن کا انتظامیہ سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ انہوں نے اسے ’بلیک ہول‘ جیسی صورتحال قرار دیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال فروری کے آخر تک 93000 سے زائد غیر ملکی مزدور لاپتہ بتائے گئے ہیں لیکن وہ اب بھی تائیوان میں موجود ہیں۔ اس منصوبہ کو غیر معینہ مدت تک کے لیے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی داخل کی گئی ہے، جس پر 42 ہزار سے زائد افراد نے دستخط کیے ہیں۔ جبکہ تائی پے میں ہندوستان کے نمائندہ دفتر نے اس معاملہ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔