کھٹمنڈو (26 اپریل 2026): نیپال میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث نے جنم لے لیا، یہ افواہ تھی یا حقیقت؟ فیکٹ چیک نے راز فاش کردیا۔سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو میں کیے گئے اس دعوے کی تردید کردی گئی ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ نیپال میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ویڈیو میں کہا گیا تھا کہ اب مسلمانوں کو نیپال میں داخلے کیلیے ویزا حاصل کرنا ہوگا جبکہ ہندوؤں کے لیے داخلہ مفت ہوگا۔اس ویڈیو کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔، حقیقت جانچنے پر واضح ہوا کہ یہ دعویٰ بے بنیاد اور گمراہ کن ہے، نیپال حکومت کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی اعلان یا پالیسی جاری نہیں کی گئی۔https://urdu.arynews.tv/wp-content/uploads/2026/04/Nepaal-VDO.mp4یہ خبر بھی وائرل ہو رہی تھی کہ کھٹمنڈو کے میئر بیلن شاہ نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے، تاہم اس حوالے سے بھی کوئی مستند ثبوت یا سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ذرائع کے مطابق نیپال کی موجودہ امیگریشن پالیسی میں کسی مذہب کی بنیاد پر امتیاز شامل نہیں ہے اور تمام غیر ملکیوں کے لیے یکساں قوانین لاگو ہوتے ہیں۔سوشل میڈیا ماہرین نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں اور ویئڈیوز کو شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضرور کرلیا کریں تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔واضح رہے کہ مارچ 2026ء میں نیپال میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی کے بعد نوجوان لیڈر اور سابق انجینئر بالن شاہ نے ملک کے 40ویں وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔یہ نئی حکومت نوجوانوں کے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں اور انتخابی عمل کے بعد قائم ہوئی، جس نے کرپشن کے خلاف کریک ڈاؤن اور پالیسی اصلاحات کے نفاذ کا سختی سے آغاز کیا ہے۔جین زی احتجاج کے دوران درجنوں ہلاکتیں، نیپال کے سابق وزیر اعظم گرفتار