کویت نے سیکڑوں افراد کی شہریت کیوں منسوخ کی؟

Wait 5 sec.

کویت سٹی : کویت کی حکومت نے شہریت کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے 1266 افراد کی کویتی شہریت منسوخ کردی ہے۔اقدام کے تحت ان کے زیر کفالت اہل خانہ بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے۔ یہ اقدام امیر کویت کے فرمودات کے ذریعے کیا گیا، جن میں 2026 کے فرمان نمبر 60، 61، 62، 65، 66 اور 67 شامل ہیں۔سرکاری گزٹ کویت الیوم میں یہ تمام نوٹسز 26 اپریل 2026 کو شائع کیے گئے، جبکہ ان احکامات کا اجرا 25 اپریل کے قریب کیا گیا تھا۔تفصیلات کے مطابق فرمان نمبر 60 کے تحت سب سے زیادہ 1242 افراد اور ان کے اہل خانہ کی شہریت ختم کی گئی۔فرمان نمبر 61، 62، 66 اور 67 کے تحت ایک، ایک فرد اور ان کے زیر کفالت افراد متاثر ہوئے، جبکہ فرمان نمبر65 کے تحت 20 افراد کے شہریت کے سرٹیفکیٹس منسوخ کیے گئے جو کہ کویتی نیشنلٹی قانون کے آرٹیکل 21 مکرر (اے) کے تحت جعل سازی سے متعلق ہیں۔شہریت منسوخی کی وجوہات بتاتے ہوئے متعلقہ حکام نے بتایا کہ یہ کارروائی شہریت کے ریکارڈ کی جاری جانچ پڑتال کا حصہ ہے۔اس اقدام کی بنیادی وجوہات میں جعل سازی یا غیر قانونی طریقے سے شہریت حاصل کرنا یا کسی ایسے فرد کے ذریعے شہریت حاصل کرنا جس کی اپنی شہریت منسوخ کی جا رہی ہو شامل ہے۔ایک علیحدہ کیس میں سابق رکن قومی اسمبلی کی شہریت بھی ختم کی گئی، جو ان کے والد کی شہریت کی منسوخی سے منسلک تھی۔یہ اقدام کویتی حکومت کی جانب سے شہریت کے قوانین کو مزید سخت بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے، حالیہ قانون سازی، خصوصاً 2026 کے نئے صدارتی قانون کے تحت، حکومت کو دھوکہ دہی، غلط بیانی یا دیگر بے ضابطگیوں کی صورت میں شہریت واپس لینے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق 2024 سے جاری اس مہم کے دوران ہزاروں افراد (اہل خانہ سمیت تعداد اس سے کہیں زیادہ) اس نوعیت کی کارروائیوں سے متاثر ہوچکے ہیں۔کویت نے متعدد غیر ملکیوں کی شہریت منسوخ کردی