تہران (26 اپریل 2026): ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی دوبارہ اسلام آباد آمد جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں ہے۔تسنیم نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ عباس عراقچی کے دوبارہ دورہ پاکستان کا ایران کے ایٹمی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان، عمان اور روس کے اپنے جاری علاقائی دورے کے دوران وہ اسلام آباد کے پہلے دورے کے محض ایک دن بعد دوبارہ مختصر دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی پاکستان حکام کے ساتھ حالیہ مشاورت جاری رکھنے کیلیے دوبارہ اسلام آباد آئے ہیں، ہمارے نمائندے کی فراہم کردہ معلومات بتاتی ہیں کہ ان مذاکرات کا ایٹمی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ مسقط سے اسلام آباد پہنچ گئےدو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ کے ایجنڈے کا اہم نکتہ پاکستانی فریق کو جنگ کے خاتمے کیلیے ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ عباس عراقچی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل میں آبنائے ہرمز پر نئے قانونی نظام کا نفاذ،جنگ کے دوران نقصانات کا معاوضہ وصول کرنا، اس بات کو یقینی بنانا کہ جنگ بھڑکانے والے عناصر ایران کے خلاف مزید فوجی جارحیت نہیں کریں گے اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کی قیادت میں مختصر وفد نے 25 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسلام آباد میں مختصر قیام کے بعد عباس عراقچی روس روانہ ہوں گے۔