وائٹ ہاؤس فائرنگ: حملہ آور ذہنی طور پر بیمار تھا، ٹرمپ

Wait 5 sec.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے ملزم سے متعلق کہا ہے کہ حملہ آور ذہنی طور پر بیمار تھا اور حملہ آور کے اہل خانہ کو اس کے مسائل کا علم تھا۔امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اتوار کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اہلکار ممکنہ طور پر اس مشتبہ شخص کا نشانہ تھے جس نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن کے عشائیے کی حفاظت کرنے والے ایک سیکیورٹی ایجنٹ پر گولی چلائی تھی۔اس شخص نے واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں ایک چیک پوائنٹ پر سیکرٹ سروس ایجنٹ پر گولی چلائی جس کے بعد اسے گرفتار کیا گیا۔ ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کو عشائیہ سے سخت سیکورٹی حصار میں باہر نکالا گیا۔اب صدر ٹرمپ نے حملہ آور کو ذہنی بیمار شخص قرار دے دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس کی ذہنی بیماری سے متعلق اہلخانہ کو بھی علم تھا۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ رات کا واقعہ وائٹ ہاؤس میں سیکیور بال روم کی ضرورت کو ثابت کرتا ہے۔ٹرمپ کی موجودگی میں گولیاں چلنے اور بھگدڑ کے دوران ’’پرسکون ڈنر‘‘ کرتا شخص کون تھا؟اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ فوج، سیکرٹ سروس اور صدور 150 سال سےمحفوظ بال روم کی تعمیر کا مطالبہ کرتے رہے وائٹ ہاؤس میں زیرتعمیر خفیہ بال روم ہوتا تو یہ واقعہ پیش نہ آتا، نیا بال روم جدید ترین سیکیورٹی فیچرز سےلیس اور دنیا کی محفوظ ترین عمارت میں ہو گا۔ٹرمپ نے کہا کہ بال روم میں اوپر کوئی کمرے نہیں ہوں گے جہاں سے غیرمحفوظ افراد داخل ہو سکیں، خاتون کی جانب سےدائربال روم کیخلاف مقدمہ بے بنیاد ہے، فوری ختم کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تعمیر میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائےگی، بال روم منصوبہ بجٹ کےمطابق اور مقررہ وقت سےپہلے مکمل ہو رہا ہے۔