ایران نے امریکا پر اپنی ریڈلائنز واضح کر دیں

Wait 5 sec.

ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کو جوہری معاملات اور آبنائے ہرمز پر اپنی ریڈ لائنز واضح کر دیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورے میں ثالث پاکستان کے ذریعے امریکا کو تحریری پیغامات پہنچائے گئے ایرانی پیغامات کا مقصد علاقائی صورتحال کی وضاحت اور ریڈ لائنز واضح کرنا تھا۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ عباس عراقچی جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر ایرانی مؤقف کو دوٹوک انداز میں پیش کر رہے ہیں۔تسنیم نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ عباس عراقچی کے دوبارہ دورہ پاکستان کا ایران کے ایٹمی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، پاکستان، عمان اور روس کے اپنے جاری علاقائی دورے کے دوران وہ اسلام آباد کے پہلے دورے کے محض ایک دن بعد دوبارہ مختصر دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عباس عراقچی پاکستان حکام کے ساتھ حالیہ مشاورت جاری رکھنے کیلیے دوبارہ اسلام آباد آئے ہیں، ہمارے نمائندے کی فراہم کردہ معلومات بتاتی ہیں کہ ان مذاکرات کا ایٹمی معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔دو طرفہ تعلقات پر بات چیت کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ کے ایجنڈے کا اہم نکتہ پاکستانی فریق کو جنگ کے خاتمے کیلیے ایران کی شرائط سے آگاہ کرنا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ عباس عراقچی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل میں آبنائے ہرمز پر نئے قانونی نظام کا نفاذ،جنگ کے دوران نقصانات کا معاوضہ وصول کرنا، اس بات کو یقینی بنانا کہ جنگ بھڑکانے والے عناصر ایران کے خلاف مزید فوجی جارحیت نہیں کریں گے اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کی قیادت میں مختصر وفد نے 25 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستانی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطح کے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔تسنیم نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اسلام آباد میں مختصر قیام کے بعد عباس عراقچی روس روانہ ہوں گے۔