لندن (22 اپریل 2026): یورپی یونین اور ایران میں لفظی محاذ آرائی شروع ہو گئی، جس سے آبنائے ہرمز اور پابندیوں پر تناؤ بڑھ گیا، کاجا کالاس کے حالیہ بیان اور اس پر برطانیہ میں ایرانی سفارت خانے کے ردعمل نے یورپی یونین اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالاس نے اپنے ٹوئٹ میں خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال میں روزانہ بدلتے فیصلے غیر ذمہ دارانہ ہیں، اور آبنائے ہرمز سے گزرنے کی آزادی ہر صورت برقرار رہنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یورپی یونین نے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ مزید بڑھانے پر سیاسی اتفاق کر لیا ہے، اور بحری نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔کاجا کالاس کا کہنا تھا کہ عالمی برادری ایک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران نہیں دیکھنا چاہتی، اور خطے کے شراکت دار اس بات پر متفق ہیں کہ ایک پائیدار حل ضروری ہے۔ ان کے مطابق آئندہ کسی بھی معاہدے میں صرف جوہری پروگرام ہی نہیں بلکہ دیگر معاملات بھی شامل ہونے چاہئیں، جن میں ایران کا میزائل پروگرام بھی شامل ہے۔Daily U-turns, whether the Strait of Hormuz is open or closed, are reckless. Transit through the Strait must remain free of charge.The EU has reached the political agreement to widen our sanctions regime to also target those responsible for breaches to freedom of navigation.… pic.twitter.com/Nbfx3AyCzu— Kaja Kallas (@kajakallas) April 21, 2026دوسری جانب، برطانیہ میں قائم ایرانی سفارت خانے نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کاجا کالاس کے ایران کے ’’غیر ذمہ دارانہ یو ٹرنز‘‘ پر خدشات کے جواب میں آئیے یورپی منافقت کی ’’سپر ہائی وے‘‘ پر بات کریں، 168 ایرانی اسکول کے بچے قتل کر دیے گئے، پل تباہ کیے گئے، پانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ اس پر یورپی یونین نے کوئی مذمت کی؟ کوئی نہیں۔ یورپ نے کیا کیا؟ متاثرہ فریق پر پابندیاں لگا دیں۔ یہ اخلاقیات کی نئی ’’دیوار برلن‘‘ ہے۔یورپی یونین کی پالیسیوں میں دوہرا معیار اور تضاد پایا جاتا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق یورپ خطے میں انسانی حقوق کے معاملات پر غیر مستقل اور متضاد رویہ رکھتا ہے، جب کہ مغربی ردعمل اکثر اصولی مؤقف کی بہ جائے سیاسی مفادات کے تحت ہوتا ہے۔ایرانی اسپیکر کی مقبولیت، امریکی اسپیکر مائیک جانسن بھی میڈیا پر نمودارسفارت خانے نے کہا ایران کہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے، جب کہ امریکا کہتا ہے کہ یہ ناکہ بند ہے اور جہاز ضبط کر رہا ہے۔ اس پر یورپی ردعمل کیا رہا؟ خاموشی۔ امریکی بحریہ نے ’’تفریح‘‘ کے لیے IRIS Dena پر حملہ کیا، ملاح ہلاک ہوئے۔ اس پر یورپی ردعمل کیا رہا؟ خاموشی۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی جانب سے اسرائیلی رہنماؤں کے لیے وارنٹس جاری ہوئے۔ اس پر یورپی ردعمل کیا رہا؟ ملاقاتیں اور گرمجوشی۔ غزہ سے نسل کشی کی براہِ راست نشریات پر یورپی ردعمل کیا رہا؟ اس کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کی گرفتاریاں۔Kaja Kallas concerns about Iran’s "reckless U-turns.” Let’s talk about the European Superhighway of Hypocrisy:• 168 Iranian schoolchildren slaughtered . Bridges hit. Water infrastructure targeted. EU condemnation: None. EU action: Sanctions against the victim. This is the new… https://t.co/ZFCKUmoB2A— Iran (I.R.of) Embassy in UK (@Iran_in_UK) April 21, 2026ایرانی مؤقف میں مزید کہا گیا کہ بحری سلامتی اور پابندیوں کے حوالے سے مغربی ممالک کا رویہ غیر متوازن ہے، اور خطے میں جاری انسانی بحرانوں پر یورپی خاموشی تشویش کا باعث ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ تنازعات کے حل کے لیے منصفانہ اور یکساں پالیسی اپنانا ضروری ہے۔ایرانی سفارت خانے نے لکھا آپ ’’آزادیٔ جہاز رانی‘‘ پر لیکچر دیتے ہیں جب کہ ایک بحری ناکہ بندی کی حمایت کر رہے ہیں جو لاکھوں لوگوں کو بھوک کا شکار بنا رہی ہے۔ آپ کا ASPIDES مشن تجارت کی حفاظت کرتا ہے، مگر آپ ان جنگی جرائم کے مرتکب افراد کا بھی دفاع کرتے ہیں جو بندرگاہوں پر بمباری کر رہے ہیں۔ آپ ایک بے قابو نسلی امتیاز پر مبنی ریاست کے ’’قانونی شعبے‘‘ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ یہ دکھاوا بند کریں کہ یہ سب عدم پھیلاؤ (نان پرو لیفریشن) کے بارے میں ہے۔ یہ دراصل سفید فام بالادستی اور صہیونی استثنیٰ کو برقرار رکھنے کے بارے میں ہے۔ یورپ نے اپنی روح بیچ دی ہے، اور اس کی رسید میناب کے بچوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں آبنائے ہرمز، پابندیوں اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام کے حوالے سے کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور سفارتی حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔