ہندوستان میں روپے کے اتار چڑھاؤ اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سست روی پر آر بی آئی کا رد عمل آیا سامنے

Wait 5 sec.

ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپے کی قدر بدھ کے روز 24 پیسے گر گئی۔ جب سے مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہوئی ہے، تبھی سے ہندوستانی روپے اور ہندوستان میں بیرون ملکی سرمایہ کاری موضوع بحث ہے۔ ان مشکل حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آر بی آئی نے تازہ بیان جاری کیا ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے کہا ہے کہ ہندوستان میں بیرون ملکی سرمایہ کاروں کے آنے جانے اور روپے کے قدر میں جو اتار چڑھاؤ ہے، وہ عارضی ہے اور وقت کے ساتھ معمول پر آ جاتا ہے۔ انھوں نے بھروسہ دلایا کہ ان سبھی چیزوں پر لگاتار نظر رکھی جا رہی ہے۔ یہ بات انھوں نے نیویارک میں ہندوستانی قونصلیٹ جنرل کے ذریعہ منعقد ایک میٹنگ میں کہی، جس میں دنیا بھر کے بڑے سرمایہ کار اور مالیاتی اداروں کے نمائندے شامل ہوئے۔ آر بی آئی گورنر نے بتایا کہ حکومت ہند اور آر بی آئی مل کر اصولوں کو آسان بنا رہے ہیں تاکہ کاروبار کرنا آسان ہو اور زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستان میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ ساتھ ہی ہندوستان کے بازاروں کو عالمی بازار سے مزید مضبوط طریقے سے جوڑا جا رہا ہے۔اس دوران آر بی آئی کی افسر ڈمپل بھانڈیا نے پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی معیشت مضبوط حالت میں ہے، ملک میں مہنگائی قابو میں ہے، بینکنگ سسٹم مضبوط ہے اور پالیسیاں مستحکم ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت بنا ہوا ہے اور جلد ہی تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔آر بی آئی کا کہنا ہے کہ سامنے آئی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 1.1 فیصد کے قریب ہے، جو کنٹرول میں ہے۔ ساتھ ہی ملک کے پاس تقریباً 700 ارب ڈالر کا مضبوط غیر ملکی کرنسی کا ذخیرہ ہے۔ مجموعی طور پر آر بی آئی کا کہنا ہے کہ بھلے ہی عالمی سطح پر کچھ ہلچل ہو، لیکن ہندوستان کی معیشت مضبوط ہے اور سرمایہ کاری کے لیے ایک بھروسہ مند متبادل بنی ہوئی ہے۔