بدھ کے روز ہندوستانی شیئر بازار میں شدید گراوٹ دیکھنے کو ملی۔ صبح کے سیشن میں سینسیکس اور نفٹی دونوں میں تقریباً ایک فیصد کی کمی آئی۔ یہ گراوٹ حیرت انگیز اس لیے ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے لیے 22 اپریل کی اپنی جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک کے لیے توسیع کر دی ہے۔ دراصل گرتا ہوا روپیہ، تیل کی بڑھتی قیمتیں اور دیگر عوامل نے سرمایہ کاروں کو تذبذب میں ڈال دیا ہے۔ نتیجۂ کار سینسیکس 800 سے زیادہ پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 78,500 کی سطح سے نیچے آ گیا، جبکہ نفٹی 50 میں 200 سے زیادہ پوائنٹس کی کمی آئی اور یہ 24,400 کی سطح سے نیچے پھسل گیا۔ بنچ مارک انڈیکس مسلسل 3 سیشنز سے جاری تیزی کے سلسلے کو توڑنے کے قریب ہیں۔سینسیکس میں ایچ سی ایل ٹیک کے شیئر سب سے زیادہ نقصان میں رہے۔ چوتھی سہ ماہی کے نتائج سے سرمایہ کاروں کے مایوس ہونے کے بعد کمپنی کے شیئر میں تقریباً 5 فیصد کی شدید گراوٹ آئی۔ ٹیک مہندرا، انفوسس اور ٹی سی ایس جیسے دیگر آئی ٹی شیئرز میں بھی 2 سے 5 فیصد تک کی کمی آئی۔ اس رجحان کے برعکس ہندوستان یونی لیور اور این ٹی پی سی کے شیئرز میں تقریباً 2 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا، اور یہ بنچ مارک انڈیکس میں سب سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے والے شیئرز میں شامل رہے۔براڈر مارکیٹس نے بنچ مارک انڈیکس کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ نفٹی مڈکیپ 100 اور نفٹی اسمال کیپ 100 انڈیکس سبز نشان میں رہے اور ان میں معمولی اضافہ درج کیا گیا۔ سیکٹورل سطح پر نفٹی آئی ٹی میں تقریباً 4 فیصد کی گراوٹ آئی اور یہ سب سے زیادہ نقصان والا سیکٹر رہا۔ اس کے برعکس نفٹی ایف ایم سی جی میں تقریباً ایک فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ این ایس ای پر تقریباً 1,407 شیئرز میں کمی آئی، جبکہ 1,561 شیئرز میں اضافہ ہوا اور 101 شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔شیئر مارکیٹ پر گہری نظر رکھنے والے وجے کمار کا کہنا ہے کہ بازار کا یہ دور نہایت اتار چڑھاؤ بھرا اور غیر یقینی ہے، لیکن یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سرمایہ کاری میں برقرار رہنا کتنا اہم ہے۔ اس ماہ اب تک نفٹی میں 10 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ براڈر مارکیٹس نے بنچ مارک انڈیکس کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے، اور بی ایس ای 500 میں تقریباً 15 فیصد کا ریٹرن ملا ہے۔ بازار میں اچانک آنے والی یہ تیزی ’شارٹ کورنگ‘ جیسے تکنیکی عوامل کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ کل جب ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی سرگرمیاں سست تھیں، تب بھی بازار میں تیزی دیکھی گئی، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کے اعلان اور اس پر ایران کی بے حسی و مشتبہ رد عمل کا مطلب ہے کہ غیر یقینی کا یہ دور ابھی جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس دوران سرمایہ کار بازار کے اہم رجحانات پر نظر رکھ سکتے ہیں۔ مالیاتی شعبے کے اچھے نتائج سے اس سیگمنٹ کو سہارا مل رہا ہے۔ اچھے نتائج کی وجہ سے کیپیٹل مارکیٹ سے جڑے اسٹاکس اچھی کارکردگی پیش کر رہے ہیں۔ پاور سیکٹر سے متعلق اسٹاکس بھی بہتر کر رہے ہیں۔