’ہم ہندوستان کے ساتھ، جو ہوا وہ دردناک تھا‘، پہلگام دہشت گردانہ حملے کی برسی پر 27 یورپی یونین ممالک کا اظہار یکجہتی

Wait 5 sec.

پہلگام دہشت گردانہ حملے کی برسی پر یورپی یونین کے 27 ممالک نے ہندوستان کی حمایت میں بیان جاری کیا۔ انہوں نے اس گھناؤنے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ہندوستان میں واقع آئرش سفارت خانہ نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر یورپی یونین کا بیان جاری کیا۔ یورپی یونین نے حملے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔On the commemoration day of the heinous terrorist attack in #Pahalgam, the EU and its 27 Member States stand in solidarity with people of India in remembrance of the innocent victims murdered one year ago. pic.twitter.com/WnUp7Ah4AR— EU in India (@EU_in_India) April 22, 2026یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ بے قصور شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی حالت میں ناقابل قبول ہے اور ایسے حملوں کے لیے ذمہ دار لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ تنظیم نے اس مشکل وقت میں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے تئیں گہری تعزیت کا بھی اظہار کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ ہم دہشت گردانہ حملوں کے خلاف ہیں اور تنظیم ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے اور تشدد کے اس عمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔واضح رہے ک صرف یورپی یونین ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک نے پہلگام حملے کی برسی پر جان گنوانے والے 26 بے گناہوں کو خراج عقیدات پیش کیا۔ سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ جو ہوا وہ قابل نفرت تھا اور اسے کسی بھی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل، ارجنٹائن اور آسٹریلیا سمیت کئی سفارت خانوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ خراج عقیدت پیش کیا۔پہلگام دہشت گردانہ حملہ کی پہلی برسی پر جموں و کشمیر میں ہائی الرٹ، پی ایم مودی نے ہولناک واقعہ کو کیا یادقابل ذکر ہے کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام کی بیسرن وادی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ چھٹیاں منانے آئے 26 بے قصور لوگوں کو دہشت گردوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ مہلوکین میں 25 سیاح تھے اور ایک ’پونی والا‘ (گھوڑے والا) بھی تھا۔ اس حملے کے بعد ہندوستان نے 8-7 مئی کی رات منصوبہ بند طریقے سے پاکستان میں واقع دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اس کارروائی میں 100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اس پوری کارروائی کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا۔ ہندوستان نے واضح کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اس کی پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کرے گا۔