آبنائے ہرمز میں برطانیہ اور فرانس کی کثیر القومی فوجی مشن کی تیاری

Wait 5 sec.

لندن (22 اپریل 2026): آبنائے ہرمز میں برطانیہ اور فرانس کی تجارتی جہازوں کے تحفظ، بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے ملٹی نیشنل فوجی مشن کی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں۔برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ ساز آج بدھ، 22 اپریل کو 2 روزہ کانفرنس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تفصیلی منصوبہ بندی کو آگے بڑھائیں گے۔یہ کانفرنس شمالی لندن کے علاقے نارتھ ووڈ میں واقع برطانیہ کے مستقل مشترکہ ہیڈکوارٹر میں منعقد ہو رہی ہے، جہاں 30 سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اس کثیرالقومی مشن کی قیادت کر رہے ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے۔ اس دوران فوجی ماہرین سفارتی اتفاقِ رائے کو ایک جامع فوجی منصوبے میں تبدیل کریں گے، تاکہ جنگ بندی کے بعد جیسے ہی حالات سازگار ہوں، اس منصوبے پر عمل کیا جا سکے۔یہ منصوبہ بندی گزشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی قیادت میں پیرس میں ہونے والے 51 ممالک کے بین الاقوامی اجلاس میں ہونے والی پیش رفت پر مبنی ہے۔یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالاس کا ٹوئٹ اور ایرانی سفارتخانے کا جواباس اجلاس میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط اور فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور ایک خودمختار، مکمل طور پر دفاعی نوعیت کے کثیرالقومی مشن کے قیام کی تصدیق کی گئی تھی، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کا تحفظ، شپنگ کمپنیوں کو اعتماد دینا، اور بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اقدامات کرنا ہے۔کانفرنس سے قبل برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے کہا کہ یہ کثیرالقومی منصوبہ بندی کانفرنس انتہائی اہم ہے، ان کے مطابق اگلے دو دنوں میں مقصد یہ ہے کہ سفارتی اتفاق کو ایک مشترکہ عملی منصوبے میں تبدیل کیا جائے، تاکہ آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے اور پائیدار جنگ بندی کی حمایت کی جا سکے۔انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی تجارت، توانائی کی سلامتی اور عالمی معیشت کا استحکام جہاز رانی کی آزادی پر منحصر ہے۔ مشترکہ حکمت عملی، بہتر ہم آہنگی اور اجتماعی اقدامات کے ذریعے آبنائے کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، عالمی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ایرانی اسپیکر کی مقبولیت، امریکی اسپیکر مائیک جانسن بھی میڈیا پر نموداربرطانیہ اور فرانس اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس فوجی منصوبے میں زیادہ سے زیادہ ممالک شامل ہوں اور ہر ملک کی مہارت کو مشترکہ مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ دو روزہ کانفرنس میں فوجی صلاحیتوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور خطے میں افواج کی تعیناتی جیسے امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ایران پر الزام ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو مؤثر طور پر غیر قانونی طور پر بند کر رکھا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ اس بندش کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل، اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں گھریلو و کاروباری اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔