بنگال میں انتخابی عمل کے دوران برسراقتدار جماعت ٹی ایم سی نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو کھلے عام جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ٹی ایم سی نے اپنے سرکاری ’ایکس‘ ہینڈل پر پوسٹ میں کہا کہ پہلے عصمت دری کی دھمکیاں دی گئیں اور توہین آمیز کارٹون پھیلائے گئے اور اب بی جے پی اس حد تک گر گئی ہے کہ کھلے عام جان سے مارنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے درجمان اجے آلوک نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا، ’’ڈرائے گا تو ٹھوکائے گا دی دی‘‘، جس کا مطلب ہے کہ اگر آپ ڈرانے کی کوشش کریں گی تو آپ کو گولی مار دی جائے گی۔ٹی ایم سی نے اسے تین مرتبہ منتخب ہو چکین وزیر اعلیٰ کے خلاف انتہائی توہین آمیز اور خطرناک قرار دیا۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن پر بھی سوال اٹھائے۔ پارٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس معاملہ پر محض تماشائی بنا ہوا ہے۔ پارٹی نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اتر پردیش اور بہار کی ’گولی مارو‘ اور ’ٹھوک دو‘ والی سیاست کو بنگال میں لانا چاہتی ہے۔ ٹی ایم سی نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی دھمکی اور ڈرانے والی روایت کو اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں 90 فیصد ٹرن آؤٹ، بدانتظامی اور تصادم کے بیچ سخت سیاسی مقابلہٹی ایم سی نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے بارے میں اس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے تو عام خواتین اور بیٹیوں کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ ریاست بنگال کبھی اس طرح کی باتوں کو فراموش نہیں کرتی اور نہ ہی معاف کرتی ہے۔ یہاں توہین اور دھمکی کا جواب الفاظ میں نہیں بلکہ ووٹ کے ذریعے دیا جائے گا۔ پارٹی نے 4 مئی کو ہونے والی دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دن بنگال اپنی آواز ضرور بلند کرے گا۔تمل ناڈو کی تمام 234 نشستوں کے لیےاور بنگال کے پہلے مرحلے کے لئےرائے دہندگان میں زبردست جوشخیال رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کل یعنی بدھ 29 اپریل کو ہونے جا رہی ہے۔ پہلے مرحلہ میں 93 فیصد کی بمپر ووٹنگ کے بعد ترنمول کانگریس اور بی جے پی نے دوسرے مرحلہ میں پوری طاقت جھونک رکھی ہے، وہیں، کانگریس اور لیفٹ بھی زور آزمائش کر رہی ہیں۔ کل ریاست کی 142 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔