مغربی کنارے سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لئے نئے حربے کا استعمال

Wait 5 sec.

یروشلم: مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا، تشدد اور ہراسانی کو فلسطینیوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کے لیے استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اردن وادی کے علاقے میں رہنے والے 29 سالہ قُصیٰ ابو القبش کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ 13 مارچ کو درجنوں آبادکاروں نے ہماری بستی پر حملہ کیا، ہمیں شدید تشدد جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔اُنہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ناصرف ہمیں برہنہ کیا بلکہ دھمکیاں بھی دیں کہ اگر علاقہ نہ چھوڑا تو دوبارہ حملہ کریں گے، اس واقعے کے بعد شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں۔رپورٹس کے مطابق جو تقریباً 3 سال کے واقعات پر مبنی ہے، بے دخلی کا سامنا کرنے والے 70 فیصد خاندانوں کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی دھمکیاں ان کے علاقے چھوڑنے کی بنیادی وجہ ہیں تاہم خوف اور سماجی دباؤ کے باعث بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔اسرائیلی اپوزیشن لیڈر نے نیتن یاہو کو جرائم پیشہ شخص قرار دے دیامختلف علاقوں میں خواتین اور بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر ہراسانی کا سامنا ہے جس کے باعث کئی لڑکیاں تعلیم چھوڑنے اور خواتین کام چھوڑنے پر مجبور ہوچکی ہیں۔