جنگی جنون میں مبتلا اسرائیل نے ایلبٹ سسٹمز سے 200 ملین ڈالر کے جدید اسلحے کا معاہدہ کرلیا

Wait 5 sec.

یروشلم(23 اپریل 2026): اسرائیل نے اپنے جنگی جنون کو برقرار رکھتے ہوئے دفاعی کمپنی ‘ایلبٹ سسٹمز’ کے ساتھ 200 ملین ڈالر کے جدید اسلحے کی فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ کر لیا ہے۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس معاہدے میں جدید ترین فضائی ہتھیاروں کی فراہمی شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یہ معاہدہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے تناظر میں کیا ہے تاکہ اپنی فضائی قوت کو مزید مستحکم کر سکے۔اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق اس نئے اسلحے کی شمولیت سے ملکی دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بڑے دفاعی معاہدے سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔البٹ سسٹمز کے صدر اور سی ای او بیزلیل مچلیس نے اس حوالے سے کہا معاہدوں کا یہ سلسلہ فضائی ہتھیاروں کے نظام میں البٹ سسٹمز کی تکنیکی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔البٹ سسٹمز کے صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری اور اعلیٰ درستگی والے قابل بھروسہ حل تیار کرنے اور فراہم کرنے کے عزم پر فخر ہے، جو اسرائیلی فضائیہ کی فضائی برتری کو برقرار رکھنے میں اہم عوامل ہیں۔واضح رہے کہ البٹ سسٹمز دفاعی ٹیکنالوجی کی ایک عالمی صف اول کی کمپنی ہے، البٹ سسٹمز پانچ براعظموں کے درجنوں ممالک میں 20,000 سے زائد افراد کو ملازمت فراہم کرتا ہے۔