نیویارک : ایران جنگ اور مہنگائی کے باوجود دامریکی مارکیٹس میں تیزی ریکارڈ کی گئی اور "ایس اینڈ پی 500” نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔تفصیلات کے مطابق ایران کے ساتھ جنگی حالات اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باوجود امریکی اسٹاک مارکیٹس نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا سرمایہ کاروں کا تمام تر فوکس جنگی صورتحال کے بجائے کمپنیوں کے مضبوط منافع اور کارپوریٹ آمدن پر مرکوز ہے۔امریکی اسٹاک مارکیٹ کا اہم انڈیکس "ایس اینڈ پی 500” نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوا، ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز میں مارکیٹ میں معمولی کمی دیکھی گئی تھی، لیکن کمپنیوں کے غیر متوقع طور پر بہتر نتائج اور سالانہ منافع میں 14 فیصد تک اضافے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ بحال کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران تنازع کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ تو دیکھا گیا، لیکن وال اسٹریٹ پر اس کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوئے، اس استحکام کی ایک بڑی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ممکنہ طور پر شرحِ سود میں کمی کی توقعات بھی ہیں، جس نے مارکیٹ کو گرنے سے بچائے رکھا۔وال اسٹریٹ میں خوف کی لہر کم ہونے کے بعد سرمایہ کاری میں دوبارہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔بڑے سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کی مضبوطی کسی بھی سیاسی یا جنگی بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انڈیکس مسلسل مثبت زون میں برقرار ہے۔