سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی پر فردِ جرم عائد

Wait 5 sec.

واشنگٹن ڈی سی ( 29 اپریل 2026 ) امریکی محکمہ انصاف نے سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبینہ دھمکی دینے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آئی جس میں ساحل سمندر پر سیپیوں سے بنائے گئے “86 47” کے اعداد دکھائے گئے تھے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال مئی میں جیمز کومی نے ایک تصویر شیئر کی تھی جس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا تھا کہ یہ ان کی ساحل پر چہل قدمی کے دوران دیکھی گئی “دلچسپ سیپیوں کی ترتیب” ہے۔ تاہم ناقدین نے دعویٰ کیا کہ “86” امریکی سلینگ میں کسی شخص کو “ہٹانے” یا “ختم کرنے” کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ “47” موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف اشارہ تھا، جو امریکا کے 47 ویں صدر ہیں۔اس پوسٹ کے بعد ریپبلکن رہنماؤں اور ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے شدید ردعمل دیا تھا۔ اُس وقت کی ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے کہا تھا کہ معاملے کی تحقیقات امریکی سیکریٹ سروس کرے گی کیونکہ یہ صدر ٹرمپ کے “قتل کی ترغیب” ہو سکتی ہے۔امریکی سیکریٹ سروس نے جیمز کومی سے واشنگٹن ڈی سی میں کئی گھنٹے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔ کومی نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ انہوں نے یہ سیپیاں شمالی کیرولائنا کے ایک ساحل پر دیکھی تھیں۔بعد ازاں قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبرڈ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جیمز کومی کو “جیل بھیجا جانا چاہیے” کیونکہ صدر ٹرمپ کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔شدید تنقید کے بعد جیمز کومی نے اپنی پوسٹ حذف کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کچھ لوگ ان نمبروں کو تشدد سے جوڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہیں، اسی لیے پوسٹ ہٹا دی گئی۔قانونی اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق امریکی قوانین کے باعث اس نوعیت کا مقدمہ عدالت میں کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔یہ مقدمہ صدر ٹرمپ اور جیمز کومی کے درمیان کئی برسوں سے جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جیمز کومی کو 2017 میں صدر ٹرمپ نے روسی مداخلت کی تحقیقات کے دوران ایف بی آئی کی سربراہی سے برطرف کر دیا تھا، جس کے بعد وہ ٹرمپ کے سخت ناقد بن گئے تھے۔