آپ حملہ آور کا پیغام پڑھ رہی ہیں، آپ کو شرم آنی چاہیے، ٹرمپ انٹرویو کے دوران اینکر پر برہم

Wait 5 sec.

واشنگٹن (27 اپریل 2026): سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سخت برہم ہو گئے جب اینکر نورہ او ڈانل نے حملہ آور کول ایلن کا پیغام پڑھ کر ان سے سوال کر دیا۔پولیٹیکو نے لکھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں صحافی نورہ او ڈانل پر سخت تنقید کی، کیوں کہ انھوں نے اُس مشتبہ حملہ آور کے منشور سے ایک اقتباس پڑھ دیا تھا، جس نے ایک دن قبل وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔جب او ڈانل نے اتوار کو وائٹ ہاؤس میں ریکارڈ کیے گئے انٹرویو کے دوران حملہ آور کول ایلن کے منشور سے یہ جملہ پڑھا ’’میں اب اس بات کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ ایک پیڈوفائل، ریپسٹ اور غدار میرے ہاتھوں کو اپنے جرائم سے آلودہ کرے۔‘‘ تو ٹرمپ، جو اس سے پہلے نسبتاً پُرسکون تھے، اچانک غصے میں آ گئے۔ٹرمپ نے کہا ’’میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ یہ پڑھیں گی کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ آپ ایسا کریں گی، کیوں کہ آپ لوگ بہت برے ہیں، بہت برے لوگ۔ ہاں، اس نے یہ لکھا ہے۔ میں ریپسٹ نہیں ہوں۔ میں نے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔‘‘حملہ آور کے بارے میں ٹرمپ کا نیا انکشافاو ڈانل نے درمیان میں پوچھا ’’اوہ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اشارہ کر رہا تھا؟‘‘ لیکن صدر نے ان کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ’’میں پیڈوفائل نہیں ہوں۔‘‘ٹرمپ اس بات پر بھی برہم دکھائی دیے کہ شاید ان کا تعلق جیفری اپیسٹین کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، حالاں کہ منشور یا اوڈانل کی بات میں ان کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ’’آپ ایک بیمار شخص کی یہ بکواس پڑھ رہی ہیں۔ مجھے ان چیزوں سے جوڑا جا رہا ہے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ مجھے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دیا جا چکا ہے۔‘‘ٹرمپ نے مزید کہا ’’آپ کو یہ پڑھنے پر شرم آنی چاہیے، کیوں کہ میں ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوں۔ آپ کو ’60 منٹس‘ میں یہ نہیں پڑھنا چاہیے تھا۔ آپ باعثِ شرم ہیں۔‘‘اینکر نے کہا ’’حملہ آور نے لکھا ہے کہ میں ہوٹل میں ہوں اور کوئی چیکنگ نہیں ہوئی، سیکرٹ سروس کیا کر رہی ہے، یہ نااہل ہے۔‘‘ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ’’حملہ آور خود بھی نااہل ہے وہ آسانی سے پکڑا گیا۔‘‘اینکر نے کہا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گزشتہ رات کوئی حملہ نہیں ہوا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ایسے لوگوں کو لگتا ہے کہ جنگ عظیم بھی نہیں ہوئی، جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ بیمار ذہن کے مالک ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور اچھے کالج سے پڑھا اور ذہین بھی ہے لیکن بیمار ذہن ہے، کچھ لوگ ذہین ہوتے ہیں لیکن بیمار ذہن کے بھی ہوتے ہیں۔