کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقہ میں ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دریافت کرنے پر سائنسدان حیران رہ گئے، جن کی عمر تقریباً 132 ملین سال بتائی جاتی ہے۔تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقہ کے ساحلی علاقے میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ڈائنوسار کے قدموں کے قدیم نشانات دریافت کیے ہیں، جو اس خطے میں لاکھوں سال قبل قدیم زندگی کی موجودگی کے حوالے سے اہم ترین شواہد فراہم کر رہے ہیں۔محققین نے بتایا یہ نشانات جنوبی افریقہ کے علاقے ‘نایسنا’ کے قریب برینٹن فارمیشن میں پائے گئے ہیں، جن کی عمر تقریباً 132 ملین سال بتائی جاتی ہے۔یہ جنوبی افریقہ میں اب تک دریافت ہونے والے ڈائنوسار کے سب سے کم عمر نشانات ہیں، جو زمین کی تاریخ کے ‘کریٹاسیئس دور’ (Cretaceous Period) سے تعلق رکھتے ہیں۔دریافت ہونے والے دو درجن سے زائد نشانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں یہاں ڈائنوسارز کی بڑی تعداد موجود تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نشانات مختلف اقسام کے ڈائنوسارز کے ہیں، جن میں تھیروپوڈز (Theropods): گوشت خور ڈائنوسارز، آرنیتھوپوڈز (Ornithopods): پودے کھانے والے ڈائنوسارز اور سوروپوڈز (Sauropods) بڑے جسم والے طویل قامت ڈائنوسارز شامل ہیں۔آج یہ مقام سمندر کے ساحل پر واقع ہے، جو دن میں دو بار لہروں کی زد میں آتا ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ لاکھوں سال پہلے یہ علاقہ دریا کے راستوں یا ساحلی میدانوں پر مشتمل تھا جہاں یہ عظیم الجثہ جانور گھومتے پھرتے تھے۔جنوبی افریقہ کا ‘کارو بیسن’ فوسلز کے لحاظ سے پہلے ہی مشہور ہے، تاہم 182 ملین سال قبل لاوے کے بہاؤ نے بہت سے آثار کو چھپا دیا تھا۔اس تازہ دریافت نے تاریخ کے اس خلا کو پُر کرنے میں مدد دی ہے اور سائنسدانوں کو امید ہے کہ اس ساحلی پٹی پر مزید تلاش سے ڈائنوسارز کی ہڈیاں اور دیگر قدیم آثار بھی مل سکتے ہیں۔