مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں 90 فیصد ٹرن آؤٹ، بدانتظامی اور تصادم کے بیچ سخت سیاسی مقابلہ

Wait 5 sec.

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کا پہلے مرحلے کے ساتھ آغاز غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ ہوا، جہاں 152 نشستوں پر تقریباً 90 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ یہ شرح 2021 کے انتخابات میں ہونے والے 82 فیصد ٹرن آؤٹ سے بھی زیادہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے ووٹرز سیاسی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ شمالی بنگال کی پہاڑی وادیوں سے لے کر جنوبی علاقوں کے گرم میدانوں تک، ووٹنگ کا یہ مرحلہ ریاست کی جغرافیائی اور سیاسی تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس، جس کی قیادت ممتا بنرجی کر رہی ہیں، مسلسل چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ پارٹی اپنی مضبوط زمینی تنظیم، خواتین کے لیے شروع کی گئی اسکیموں جیسے ’لکشمیر بھنڈار‘ اور مرکزی حکومت کی نظراندازی کے بیانیے پر انحصار کر رہی ہے۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی 2021 میں حاصل کی گئی 77 نشستوں کی بنیاد پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔ بی جے پی اپنی مہم میں حکومت مخالف لہر، انتخابی تشدد کے بیانیے اور سرحدی اضلاع میں ہندوتوا کی سیاست کو استعمال کر رہی ہے۔ بائیں بازو اور کانگریس کا اتحاد اگرچہ کمزور ہو چکا ہے لیکن کچھ علاقوں خصوصاً مسلم اکثریتی خطوں اور دیہی علاقوں میں مقابلے کو سہ رخی بنا رہا ہے۔تاہم 23 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کئی مسائل اور تنازعات کا شکار رہی۔ شدید گرمی، جو 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی تھی، کے ساتھ ساتھ ای وی ایم مشینوں کی خرابی، جھڑپیں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزامات نے انتخابی عمل کو متاثر کیا۔ الیکشن کمیشن کو مجموعی طور پر 700 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 360 براہِ راست اور 340 سی ویجل ایپ کے ذریعے درج کی گئیں۔ ان شکایات میں ای وی ایم کی خرابی، بوتھ کیپچرنگ اور ووٹروں کو دھمکانے جیسے الزامات شامل تھے۔چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے پہلے ہی حساس علاقوں جیسے مرشدآباد، بیر بھوم اور کوچ بہار میں مرکزی فورسز کی تعیناتی بڑھانے کی ہدایت دی تھی۔ ان اقدامات کے باوجود کئی مقامات پر بدانتظامی دیکھی گئی، اگرچہ حکام نے بیشتر علاقوں میں حالات کو قابو میں رکھنے کا دعویٰ کیا۔ای وی ایم کی خرابی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی۔ بہرام پور کے ایک پولنگ بوتھ پر مشینیں بار بار خراب ہوئیں، جنہیں چار بار تبدیل کیا گیا، مگر مسئلہ برقرار رہا۔ کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے اسے انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے سینکڑوں ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ شدید گرمی میں گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے والے بزرگ اور مزدور طبقے کے لوگ مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے۔کئی پولنگ بوتھوں پر تکنیکی خرابیوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کو مزید بڑھا دیا۔ بہرام پور کے بوتھ نمبر 141، جو کانگریس کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے، وہاں ای وی ایم بار بار خراب ہوئیں اور چار مرتبہ تبدیل کرنے کے باوجود مسئلہ برقرار رہا۔ مقامی کانگریس رہنما اور لوک سبھا رکن ادھیر رنجن چودھری نے پولنگ عملے کی نااہلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث سیکڑوں ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو گئے۔شدید گرمی میں بزرگ خواتین اور یومیہ مزدوری کرنے والے افراد گھنٹوں قطار میں کھڑے رہے، مگر مایوسی کے عالم میں کئی لوگ واپس لوٹ گئے۔ 68 سالہ سنیتا دیوی، جو ووٹر لسٹ میں حالیہ ترمیم کے بعد پہلی بار ووٹ ڈالنے آئی تھیں، نے کہا، ’’ہم صبح سے دھوپ میں کھڑے ہیں مگر مشینیں کام ہی نہیں کر رہیں۔‘‘اسی نوعیت کی تاخیر مرشدآباد کے بیلڈانگا، شمشیر گنج اور کندی، نندی گرام، کوچ بہار، مالدہ کے حبیب پور اور دارجلنگ کے سلی گوڑی سمیت کئی علاقوں میں بھی دیکھی گئی۔ انتخابی حکام نے ان خرابیوں کی وجہ شدید گرمی کو قرار دیا اور یقین دہانی کرائی کہ دوسرے مرحلے سے قبل فوری طور پر مشق (مک پول) کے ذریعے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ خرابیاں ترنمول کانگریس کے اس بیانیے کو تقویت دیتی ہیں کہ بی جے پی کی جانب سے دانستہ رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جیسا کہ 2021 کے انتخابات میں بھی کچھ بوتھوں پر دوبارہ ووٹنگ کرانی پڑی تھی۔سیاسی جماعتوں خاص طور پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بی جے پی کے درمیان کے درمیان تصادم نے صورتِ حال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔ کمار گنج میں بی جے پی امیدوار سوویندو سرکار نے الزام لگایا کہ ان کے پولنگ ایجنٹ کو بوتھ سے باہر نکال دیا گیا جبکہ ٹی ایم سی کا ایجنٹ اندر موجود رہا۔ انہوں نے مقامی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پر ٹی ایم سی کے حق میں جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ’پارٹی کا آدمی‘ قرار دیا، اور دعویٰ کیا کہ ان پر ’جہادیوں‘ کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے بعد ’سنتانیوں‘ نے مداخلت کی۔ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کی جانچ کا یقین دلایا۔قریب ہی مرارائی میں کانگریس کارکنوں اور ٹی ایم سی حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، جس میں دو کانگریس کارکن سر پر چوٹ لگنے سے زخمی ہوئے۔ پارٹی نے اسے ووٹروں کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ بیر بھوم کے لابپور میں ایک بی جے پی ایجنٹ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جسے سوری صدر اسپتال میں علاج کے لیے لے جانا پڑا۔دبراج پور میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب ٹی ایم سی نے بی جے پی پر ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا، جس کے باعث دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ووٹنگ روک دی گئی۔ احتجاج کے دوران مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور لاٹھی چارج میں کئی ٹی ایم سی کارکن اور دو اہلکار زخمی ہوئے۔ بی جے پی نے اسے ووٹنگ متاثر کرنے کے لیے ’ڈرامہ‘ قرار دیا، تاہم سخت سکیورٹی کے درمیان دوبارہ ووٹنگ شروع کر دی گئی۔ ٹی ایم سی کی وزیر ششی پنجا نے نندی گرام سے بیان دیتے ہوئے افسران اجے مشرا اور قدرتِ خدا کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، اور ان پر بی جے پی کی حمایت کا الزام لگایا۔دیگر حساس علاقوں میں آسنسول بھی شامل رہا، جہاں بی جے پی لیڈر اگنی مترا کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا، جس سے گاڑی کے پچھلے شیشے ٹوٹ گئے۔ انہوں نے اس کا الزام ٹی ایم سی کے کارکنوں پر عائد کیا۔ نوڈا میں بھی ٹی ایم سی اور ہمایوں کبیر کے حامیوں کے درمیان جھڑپ کے بعد گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی، تاہم انہوں نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ ووٹنگ سے ایک رات پہلے بھی تشدد کے واقعات پیش آئے، جن میں نوڈا میں دیسی بم دھماکے سے ایک خاتون زخمی ہوئی، جبکہ ڈومکل کے رائے پور گاؤں میں ٹی ایم سی اور سی پی آئی (ایم) کے درمیان تصادم ہوا۔ جھارگرام کے قریب ایک آوارہ ہاتھی کی موجودگی نے بھی ووٹروں کو خوفزدہ کر دیا۔ کشیدہ علاقوں میں مرکزی فورسز نے ووٹروں کو سکیورٹی فراہم کرتے ہوئے پولنگ بوتھ تک پہنچایا، جس سے بنگال کے حساس "ریڈ کوریڈور" علاقوں کی اہمیت واضح ہوئی۔سیاسی رہنماؤں نے ووٹنگ ختم ہوتے ہی جیت کے دعوے شروع کر دیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بنگال میں جلسے کے دوران زیادہ ووٹنگ کو بی جے پی کی کامیابی سے جوڑا، جبکہ ممتا بنرجی نے اسے بی جے پی کے خلاف عوامی ردعمل قرار دیا اور اپنی حکومت کی فلاحی اسکیموں کا حوالہ دیا۔ چیف الیکٹورل آفیسر منوج اگروال نے ماحول کو ’بلا خوف‘ قرار دیتے ہوئے دوبارہ ووٹنگ کے امکانات کو مسترد کیا، جبکہ بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش نے اسے ’زیادہ تر پرامن‘ بتایا۔بہرام پور سے کانگریس امیدوار ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ اس بار مرشدآباد میں ٹی ایم سی کی دھمکیاں ووٹروں کو خوفزدہ کرنے میں ناکام رہیں۔ ان کے مطابق لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ بے خوف ہو کر ووٹ ڈالنے نکلے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے کے خدشے نے بھی ٹرن آؤٹ بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ چودھری نے الیکشن کمیشن کی جانب سے مرکزی فورسز کی تعیناتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سخت سکیورٹی کے باعث لوگ گرمی اور تکنیکی مسائل کے باوجود پُرامن طریقے سے ووٹ ڈال سکے۔دن بھر ای وی ایم کی خرابی، جھڑپوں اور الزامات کے باوجود ووٹنگ مکمل ہوئی، مگر سیاسی جماعتوں نے فوری طور پر اپنی جیت کے دعوے پیش کر دیے۔ بی جے پی کے سوویندو ادھیکاری نے کہا کہ ان کی پارٹی آج ووٹ ہونے والی 152 نشستوں میں سے 125 جیتے گی، جبکہ ٹی ایم سی کے وار روم نے پہلے مرحلے میں 105 سے زائد نشستوں کا ہدف رکھا ہے۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی اور نتائج 4 مئی کو آئیں گے۔ پہلے مرحلے نے واضح کر دیا ہے کہ مغربی بنگال میں اس بار مقابلہ انتہائی سخت ہونے والا ہے۔