نئی دہلی: ناری شکتی وندن ایکٹ میں ترمیمی بل کو لوک سبھا سے خارج کیے جانے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس پارٹی پر خواتین مخالف ہونے کا الزام لگاتے ہوئے مسلسل تنقید کر رہی ہے۔ مہیلا کانگریس بھی بی جے پی پر لگاتار حملہ کر رہی ہے تاکہ بی جے پی کو کانگریس پر بل کو روکنے کا الزام لگانے سے روکا جا سکے۔مہیلا کانگریس نے مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی سے خواتین ریزرویشن بل کو فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک مہم بھی شروع کی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے مہیلا کانگریس اس معاملے پر مہم چلا رہی ہے۔ اس کے تسلسل میں جمعرات کو دہلی مہیلا کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کو پوسٹ کارڈ بھیج کر ناری شکتی وندن ایکٹ کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔دہلی مہیلا کانگریس کی صدر پشپا سنگھ نے کہا کہ ہماری قومی صدر الکا لامبا کی رہنمائی اور اعلیٰ قیادت اور عوام کے ہر دل عزیز لیڈرراہل گاندھی کی ایما پر ہم نے آج دہلی میں اس دو ماہ طویل پوسٹ کارڈ مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ مہم ملک بھر میں جاری رہے گی۔ دہلی میں تقریباً 14,000 بوتھ ہیں۔ ہر بوتھ سے 1000 پوسٹ کارڈ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجے جائیں گے، جس میں ان پر زور دیا جائے گا کہ وہ ناری شکتی وندن ایکٹ کو فوری طور پر نافذ کریں۔پشپا سنگھ نے بتایا کہ ہم نے آج گول ڈاک خانہ پوسٹ آفس سے اس پوسٹ کارڈ مہم کا آغاز کیا ہے۔ بل پر فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ لوک سبھا میں 33فیصدریزرویشن میں سے فی الحال 543 سیٹوں میں سے 180 لوک سبھا سیٹیں خواتین کے لیے ریزرو کر دی جائیں تاکہ خواتین کو آئندہ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں یہ ریزرویشن مل سکے۔دہلی مہیلا کانگریس صدر نے کہا کہ مودی حکومت خواتین کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ 2023 میں پاس ہونے والے بل میں ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ جبکہ اس بل میں پہلے ہی یہ شرط رکھی گئی تھی کہ نئی مردم شماری کے بعد حد بندی کی جائے گی اور اس کی بنیاد پر سیٹیں بڑھائی جائیں گی اور پھر خواتین کو ریزرویشن دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اب 2029 میں اپنی سیٹ بچانے کے لیے 2011 کی مردم شماری پر مبنی اس بل کو کیوں نافذ کرنا چاہتے ہیں؟ اگر 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر تحفظات دینے ہیں تو اب ان پر عمل درآمد کیا جائے۔پشپا سنگھ نے کہا کہ پنچایتوں میں خواتین کی بھاگیداری راجیو گاندھی جی کی دین ہے۔ دہلی کے میونسپل کارپوریشنوں میں خواتین کے لیے 50 فیصد ریزرویشن شیلا دکشت کی قیادت والی کانگریس حکومت کی دین ہے۔ کانگریس نے ہمیشہ خواتین کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے، جب کہ بی جے پی ہمیشہ خواتین کے راستے رکاوٹ کھڑی کرتی رہی ہے۔ اس لیے اس بل میں ترمیم کرکے بی جے پی نے ایک بار پھر اسے روک دیا ہے۔