واشنگٹن (26 اپریل 2026): صدر ٹرمپ سے قبل ماضی میں بھی امریکی صدور پر قاتلانہ حملے ہو چکے سابق صدر ریگن اور ٹرمپ پر حالیہ حملے میں کافی مماثلت ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر میں شریک تھے کہ ان کی موجودگی کے دوران فائرنگ کی گئی۔ تاہم وہ اور دیگر حکام محفوظ رہے۔تاہم ہلٹن ہوٹل میں امریکی صدر کی موجودگی میں فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ماضی میں یہاں سابق امریکی صدر ریگن پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کی وجہ سے مذکورہ ہوٹل کو ریگن ہوٹل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اسے یہ عرفیت جان ہنکلے جونیئر کی جانب سے 1981 میں وہاں صدر رونالڈ ریگن کے قتل کی کوشش کے بعد حاصل ہوئی۔الجزیرہ کا کہنا ہے یہ تقریب شاید وہی ہے جس کیلیے ہوٹل سب سے زیادہ مشہور ہے، نہ کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیہ کیلیے جو وہاں ہر سال منعقد ہوتا ہے۔صدر ٹرمپ کو اب تک کتنی بار قتل کرنے کی کوشش یا دھمکیاں مل چکیں؟