تہران (29 اپریل 2026): سینئر ایرانی رکن پارلیمنٹ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے پاس دشمن کے خلاف سالوں تک جنگ کیلیے میزائل اور ڈرون کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے نائب سربراہ علاؤ الدین بروجردی نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ہم نے ابھی تک اپنی خفیہ صلاحیتیں ظاہر ہی نہیں کیں۔علاؤ الدین بروجردی نے اعلان کیا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون کے ذخائر اتنے وسیع ہیں کہ وہ برسوں کی جنگ کی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ تہران نے ابھی تک اپنی مکمل فوجی صلاحیتوں کا استعمال نہیں کیا ہے۔یہ بھی پڑھیں: میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ ’’غیر استعمال شدہ‘‘ رہ گیا ہے: ایرانعلاؤ الدین بروجردی نے امریکی بحری ناکہ بندی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ اس وقت تقریباً 120 بحری جہاز آبنائے ہرمز کے قریب گزرنے کے منتظر ہیں جبکہ بہت سے ایرانی جہاز امریکی مداخلت کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے باب المندب کی تزویراتی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مقام بھی آبنائے ہرمز کی طرح اہمیت کا حامل ہے اور وہاں ہونے والی تبدیلیاں بحری راستوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔سینئر رکن ایرانی پارلیمنٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنے خودمختار حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ان حقوق کا تحفظ مذاکرات کے ذریعے کیا جائے گا۔