اسلام آباد (29 اپریل 2026): متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کام لیں بصورت دیگر آپ کی ایک پوسٹ بہت مہنگی پڑسکتی ہے۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق قوانین مزید سخت کر دیے ہیں، جن کا مقصد شہریوں اور رہائشیوں کی نجی معلومات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔یو اے ای کے وفاقی حکم نامہ نمبر 34 برائے 2021 کے تحت کسی بھی شخص کی ذاتی یا خفیہ معلومات کو بغیر اجازت حاصل کرنا، استعمال کرنا یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنا سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔پرائیویسی کی خلاف ورزی سنگین جرمحکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت یا رازداری کی خلاف ورزی پر طویل مدت قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔قانون کے مطابق اگر کوئی فرد کسی دوسرے شخص کا ذاتی ڈیٹا، جیسے طبی ریکارڈ، بینک تفصیلات یا آن لائن ادائیگیوں کی معلومات، بغیر اجازت حاصل کرتا یا پھیلاتا ہے تو اسے کم از کم 6 ماہ قید اور 20ہزار سے 1 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہےاسی طرح بغیر اجازت لوگوں کا ڈیٹا جمع کرنا یا استعمال کرنا بھی قابل سزا ہے، جس پر 50 ہزار سے 5لاکھ درہم تک جرمانہ اور قید ہوسکتی ہے۔حادثات کی تصاویر شیئر کرنا بھی جرم قرارمذکورہ قوانین میں نجی زندگی کے تحفظ پر بھی خاص زور دیا گیا ہے جیسے کہ کسی کی اجازت کے بغیر اس کی تصاویر یا ویڈیوز بنانا، ریکارڈنگ کرنا یا انہیں آن لائن شیئر کرنا جرم ہے، چاہے وہ مواد درست ہی کیوں نہ ہو، خاص طور پر حادثات یا زخمی افراد کی تصاویر شیئر کرنا سختی سے ممنوع ہے۔قانون کے مطابق ایسی خلاف ورزیاں سائبر جرائم کے زمرے میں آتی ہیں جن پر کم از کم 6 ماہ قید اور 1.5 لاکھ سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔مزید برآں، کسی ملازمت کے دوران حاصل کی گئی خفیہ معلومات کو افشا کرنا بھی جرم ہے، جس پر 2لاکھ سے 10 لاکھ درہم تک جرمانہ اور قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔حکام کے مطابق ان قوانین کا مقصد ڈیجیٹل دنیا میں لوگوں کی پرائیویسی کا تحفظ، ڈیٹا کے غلط استعمال کی روک تھام اور آن لائن نظام پر اعتماد کو برقرار رکھنا ہے۔