نئی دہلی : پاکستانی فضائی حدود کی بندش بھارت کے لیے ‘ناقابلِ تلافی’ معاشی دھچکا ثابت ہوا، بھارتی ایئر لائنز کو سالانہ 800 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارت کے بلاجواز یکطرفہ اقدامات کے جواب میں پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش مودی سرکار کے لیے ایک بڑا معاشی بحران بن گئی ہے۔ماہرینِ ہوابازی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے بھارتی ایئر لائنز کو اربوں روپے کے اضافی مالی بوجھ تلے دبا دیا ہے اور پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث بھارتی پروازوں کو درج ذیل سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔بھارت سے امریکہ، کینیڈا اور یورپ جانے والی پروازوں کو اب طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن کے اخراجات میں لاکھوں ڈالر کا یومیہ اضافہ ہو رہا ہے۔روٹ طویل ہونے کی وجہ سے بھارتی طیاروں کو اب منزل پر پہنچنے سے پہلے کسی تیسرے ملک میں لینڈنگ کر کے ری فیولنگ کرنا پڑتی ہے، جو فضائی کمپنیوں کے لیے اضافی مالی بوجھ کا باعث ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بندش برقرار رہتی ہے تو بھارتی ایئر لائنز کو سالانہ 800 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے غیر منطقی اور جارحانہ اقدامات کا خمیازہ اب ناقابلِ تلافی معاشی نقصانات کی صورت میں بھگت رہا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی فضائی حدود کی بندش میں مزید توسیع کی گئی، تو بھارتی ایئر لائنز کے لیے کئی بین الاقوامی روٹس کو برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا اور انہیں یہ پروازیں مستقل طور پر بند کرنا پڑ سکتی ہیں۔موجودہ صورتحال نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کا حل فی الحال مودی سرکار کے پاس نظر نہیں آتا۔