نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے 24 اپریل کو منائے جانے والے ’یومِ قومی پنچایتی راج‘ کے موقع پر اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔ اس میں انھوں نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوری ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے پنچایتی راج اداروں کو مزید بااختیار بنانا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے سیاسی وجود کو محفوظ کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔مودی حکومت نے منریگا جیسے انقلابی قانون کو بلڈوزر سے ختم کر دیا، جے رام رمیش کا الزامکانگریس لیڈر نے یاد دلایا کہ 24 اپریل 1993 کو آئین کی 73ویں ترمیم نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت آئین میں دفعہ 243-اے سے 243-او تک کی دفعات شامل کی گئیں۔ اس ترمیم کا مقصد پنچایتی راج اداروں کو مضبوط بنانا اور انہیں حکمرانی کے بنیادی ستون کے طور پر قائم کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً 2.6 لاکھ گرام پنچایتیں، 6,700 سے زیادہ درمیانی سطح کی پنچایتیں اور 673 ضلع پریشدیں کام کر رہی ہیں۔جئے رام رمیش نے کہا کہ یہ ایک انقلابی قدم تھا جو سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی دور اندیشی اور عزم کا نتیجہ تھا۔ انہی کی کوششوں سے پنچایتی راج اداروں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے محفوظ کی گئیں، جن میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی خواتین کے لیے بھی ریزرویشن شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ آج تقریباً 32 لاکھ منتخب نمائندے پنچایتی راج اداروں میں موجود ہیں، جن میں تقریباً 15 لاکھ خواتین شامل ہیں۔24 अप्रैल को राष्ट्रीय पंचायती राज दिवस के रूप में मनाया जाता है। इसी दिन 1993 में संविधान का 73वां संशोधन लागू किया गया था। इसके तहत संविधान में अनुच्छेद 243-A से 243-O तक के विस्तृत प्रावधान जोड़े गए, ताकि पंचायती राज संस्थाओं को व्यापक रूप से सशक्त बनाया जा सके और वे हमारी…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) April 24, 2026کانگریس جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ اصل میں یہ ترمیم 1989 میں 64ویں آئینی ترمیم کے طور پر پیش کی گئی تھی، جو لوک سبھا سے منظور ہونے کے باوجود راجیہ سبھا میں بی جے پی کی مخالفت کے باعث پاس نہیں ہو سکی تھی۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی بتایا کہ آئین کی دفعہ 243-ڈی(6) کے تحت پنچایتوں میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے بھی ریزرویشن کا انتظام موجود ہے، جس سے کئی ریاستیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔جئے رام رمیش نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2004 میں پنچایتی راج کی وزارت قائم کی گئی اور فروری 2006 میں منریگا جیسی تاریخی اسکیم شروع کی گئی، جس نے گرام پنچایتوں کو منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں مرکزی کردار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے دسمبر 2025 میں منریگا کو ختم کر دیا۔ اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ پنچایتی راج اداروں اور بلدیاتی نظام (جس کے لیے آئین میں دفعہ 243-پی سے 243-زیڈ جی تک کے انتظامات موجود ہیں) کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، جو جمہوریت کو نچلی سطح تک مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔