آبنائے ہرمز سے گزرنے کی ایرانی فیس دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی

Wait 5 sec.

نیویارک (28 اپریل 2026): آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کی جانب سے فیس کی وصولی دنیا کے لیے ناقابل برداشت ہو گئی ہے، امریکا سے لے کر اقوام متحدہ تک آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز پر عملی طور پر اپنا کنٹرول قائم کرتے ہوئے فیس وصول کرنا شروع کر دیا ہے، اگرچہ اس کی شرح اور قانونی حیثیت ابھی بین الاقوامی طور پر متنازع ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر فیس عائد کرنے کی کوشش برداشت نہیں کر سکتے۔انھوں نے کہا بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو یرغمال بنانے کی کوشش برداشت نہیں کریں گے، آبنائے ہرمز کھلا ہونے کا ایرانی دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہے، ایران سے اجازت لینا یا اسے ادائیگی کرنا آبنائے ہرمز کا کھلا ہونا نہیں ہے۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران کی مرضی اور ادائیگی کے عوض بحری راستہ استعمال کرنا معمول نہیں ہو سکتا، ایران یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ بین الاقوامی گزرگاہ کون استعمال کرے گا اور کون نہیں۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کا احترام کیا جانا چاہیے، فریقین سے اپیل ہے کہ آبنائے کھولیں اور جہازوں کو گزرنے دیں، کوئی ٹول نہیں کوئی امتیاز نہیں، تجارت دوبارہ شروع ہونے دیں۔امریکا اور ایران ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں جتنے نظر آ رہے ہیں، سی این اینیو این سیکریٹری جنرل نے اپیل کی کہ عالمی معیشت کو سانس لینے دیں، محفوظ اور بلا روک ٹوک راستہ ہی معاشی اور انسانی ضرورت ہے۔امریکی نمائندہ برائے سلامتی کونسل نے رد عمل میں کہا کہ ایران کی جانب سے جہاز گزرنے کی فیس رشوت کے برابر ہے، یہ آبنائے ایران کی ملکیت نہیں ہے، اس نے خلیجی ریاستوں پر ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے، اور اپنے خلیجی پڑوسیوں پر گولہ باری کی ہے۔امریکی نمائندے نے کہا ایران کو آبنائے ہرمز کو سودے بازی کے طور پر استعمال کرنے کا حق نہیں ہے، ایران کو آبنائے میں مہم جوئی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ادھر الجزیرہ کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ مجوزہ قومی قانون کے تحت، جو اس آبی گزرگاہ کے انتظام سے متعلق ہے، آبنائے ہرمز کی ذمہ داری اب ان کے ملک کی مسلح افواج کے سپرد ہوگی۔دوسری طرف روس کے اقوامِ متحدہ میں سفیر واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ ایران کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو محدود کرے اور اس پر کنٹرول رکھے۔ نیبینزیا نے مزید مغربی ممالک کا موازنہ منافقوں اور قزاقوں سے کرتے ہوئے یورپی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو بحیرۂ اسود میں روسی تجارتی جہازوں پر یوکرینی حملوں کی حمایت کر رہے ہیں۔سفیر کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران اگر کسی ساحلی ریاست پر حملہ ہو رہا ہو تو وہ اپنی علاقائی سمندری حدود میں سیکیورٹی کے پیشِ نظر جہاز رانی کو محدود کر سکتی ہے۔ قزاقوں کے برعکس، جو اپنے جہازوں پر کھوپڑی اور ہڈیوں والا سیاہ جھنڈا لہراتے ہیں، مغربی ممالک اپنی غیر قانونی کارروائیوں کو یک طرفہ جبری اقدامات کے حوالے دے کر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔فی بیرل کی بنیاد پر تخمینہ: متعدد اطلاعات کے مطابق تیل بردار جہازوں سے فی بیرل تیل کے حساب سے ایک امریکی ڈالر وصول کرنے کی تجویز ہے۔ اس حساب سے ایک بڑے ٹینکر (VLCC) سے تقریباً 20 لاکھ ڈالر تک وصول کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس فیس سے ایران کو سالانہ 100 ارب ڈالر تک کی آمدنی ہو سکتی ہے، جو ملک کی جی ڈی پی کا 20-25 فی صد بنتی ہے۔ یاد رہے کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اپریل 2026 کے اوائل میں بتایا تھا کہ فیس کی شرح کا تعین ابھی مکمل نہیں ہوا اور اس پر کام جاری ہے۔ البتہ اسی ماہ کے آخر میں ایران نے یہ اعلان کیا کہ اسے پہلی قسط موصول ہو چکی ہے۔ ایران نے اس فیس کو وصول کرنے کے لیے ایرانی ریال، چینی یوآن، امریکی ڈالر اور یورو میں اکاؤنٹ کھولے ہیں۔ تاہم امریکی پابندیوں کے پیش نظر، ادائیگی بنیادی طور پر ایرانی ریال، یوآن یا کرپٹو کرنسی میں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔