چین کاامریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو بڑا جھٹکا

Wait 5 sec.

بیجنگ : چین نے میٹا کو اے آئی اسٹارٹ اپ “مانس” خریدنےسےروک دیا اور 2 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا معاہدہ منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق چین نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ‘میٹا’ کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اسے چینی اے آئی اسٹارٹ اپ "مانس” خریدنے سے روک دیا ہے۔الجزیرہ ٹی وی نے بتایا کہ چینی حکومت نے 2 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے اس بڑے معاہدے کو منسوخ کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کر دیا ہے۔چینی حکام نے اس ڈیل کو روکنے کی بنیادی وجہ "قومی سلامتی” کو قرار دیا، بیجنگ کا موقف ہے کہ "مانس” اے آئی ایک حساس اور جدید ترین خودکار ٹیکنالوجی ہے، اور اس کی ملکیت امریکی کمپنی کو منتقل ہونے سے چین کی اہم ٹیکنالوجی بیرون ملک منتقل ہونے کا شدید خدشہ ہے۔الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ "مانس” کو مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت سمجھا جاتا ہے جو خودکار نظام کو چلانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔میٹا اس اسٹارٹ اپ کو خرید کر اے آئی کی عالمی دوڑ میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا تھا، لیکن چین کے اس فیصلے نے میٹا کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔اس فیصلے کو امریکہ اور چین کے درمیان جاری طویل ٹیکنالوجی جنگ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں امریکہ چینی ایپس (جیسے ٹک ٹاک) پر پابندیاں لگا رہا ہے، وہیں اب چین نے بھی اپنی اہم اے آئی کمپنیوں کے حصول کو روک کر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا شروع کر دیا ہے۔