لندن : بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں بے قابو ہوگئیں اور برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالرز سے تجاوز کر گئی۔تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان آج بھی برقرار ہے، جس کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید ہیجان پایا جا رہا ہے۔ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے قیمتوں کو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔آج کے تجارتی سیشن کے دوران خام تیل کی دونوں بڑی مارکیٹوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 110.03 ڈالرز فی بیرل کی سطح عبور کر گئی۔امریکی خام تیل کی قیمت 2.29 فیصد بڑھ کر 98.63 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ایران کے ساتھ حالیہ جنگی صورتحال نے تیل کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا کر دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ تیل صرف 67.02 ڈالرز پر دستیاب تھا، جو اب تقریباً 100 ڈالرز کے قریب پہنچ چکا ہے جبکہ جنگ سے پہلے برینٹ خام تیل کی قیمت 73 ڈالرز فی بیرل تھی، جس میں اب تک 37 ڈالرز سے زائد کا ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس مسلسل اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہیں، ان کے تجارتی خسارے میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوگا۔