امریکا اور ایران ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں جتنے نظر آ رہے ہیں، سی این این

Wait 5 sec.

واشنگٹن (28 اپریل 2026): سی این این نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے سے اتنے دور نہیں جتنے دکھائی دیتے ہیں۔ثالثی کے عمل سے واقف ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان پاکستان میں مذاکرات کا دوسرا دور نہیں ہو سکا ہے۔سی این این کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پسِ پردہ بھرپور سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور موجودہ بات چیت ایک مرحلہ وار طریقۂ کار پر مرکوز ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کے پہلے حصے میں جنگ سے پہلے والی صورت حال کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی یا ٹیکس کے دوبارہ کھولنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ جسے امریکا اور اسرائیل دونوں نے جنگ کی وجہ قرار دیا تھا، بعد کے مرحلے میں زیرِ بحث آئے گا۔صحافی جمی کیمل نے میلانیا ٹرمپ سے متعلق کیا کہا جس پر صدر ٹرمپ نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا؟امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ضروری ہوگا کہ ایران اپنے ہتھیار کے درجے کے یورینیم کے ذخیرے سے دست بردار ہو اور یورینیم کی افزودگی بھی ترک کرے، اور ان مطالبات کو ایران مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔ذرائع کے مطابق ثالث دونوں فریقوں پر معاہدے تک پہنچنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، اور آنے والے چند دن خاص طور پر اہم ہیں۔ اس تمام صورت حال پر یہ امکان بھی منڈلا رہا ہے کہ امریکا مذاکرات سے الگ ہو کر دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔