ہندوستانی حکومت کی کمپنی کو بیرون ملک ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مہارتنا کمپنی آئل انڈیا لمیٹڈ کو تیل اور گیس کا نیا ذخیرہ ملا ہے۔ کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو اس بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ ذخیرہ ایسے وقت میں کمپنی کے ہاتھ لگا ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا ہوا ہے۔واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ابھی بھی برینٹ کروڈ آئل 100 ڈالر سے اوپر برقرار ہے اور پیر کو بھی اس میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی ’آبنائے ہرمز‘ کی بندش کی وجہ سے آئی ہے۔ حالانکہ ابھی ’رائٹرس‘ کی رپورٹ میں ایسا دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے اور پھر سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہونے کا امکان ہے۔دریں اثنا ہندوستانی کمپنی نے بتایا کہ اسے لیبیا کے ایریا 95/96 بلاک میں تیل اور گیس کا نیا ذخیرہ ملا ہے۔ یہ دریافت کمپنی کے اوورسیز یعنی غیر ملکی ایکسپلوریشن پورٹ فولیو کے لیے کافی خاص مانا جا رہا ہے۔ کمپنی نے شیئر بازار کو بتایا کہ اس پروجیکٹ میں آئل انڈیا کی 25 فیصد حصہ داری ہے۔ کمپنی ایک ہندوستانی کنسورشیم کا حصہ ہے، جس میں آئی او سی ایل بھی شامل ہیں۔’بزنس اسٹینڈرڈ‘ کے مطابق یہ بلاک لیبیا کے جنوب مغربی حصے میں ہے اور ’غدامس بیسن‘ نامی انتہائی امکانی علاقے میں آتا ہے۔ اس پورے بلاک کا ایریا تقریباً 6630 مربع کلومیٹر ہے۔ اس بلاک کو ’آپریشن سیپیکس‘ نامی کمپنی چلا رہی ہے۔ یہاں مجموعی طور پر 8 ایکسپلوریٹری (تلاشی) کنوئیں کھودنے کا منصوبہ ہے۔ ان میں سے اب تک 5 کنوؤں کی ڈرلنگ پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی، جن میں 2012 سے 2014 کے درمیان 4 کنوؤں میں تیل اور گیس کی دریافت ہوئی تھی۔ پھر سے کام شروع ہونے پر چھٹے کنوئیں اے1-96/02 کی ڈرلنگ کی گئی، جس میں گیس اور تیل کے نئے ذخائر ملے ہیں۔رپورٹس کے مطابق کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن یعنی این او سی نے اس کنوئیں کو بلاک کی پانچویں دریافت کے طور پر باقاعدہ تسلیم کر لیا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس علاقے میں ہائیڈرو کاربن کے مضبوط امکانات موجود ہیں۔ اب اس دریافت کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کی صلاحیت کا اندازہ لگایا جائے گا، تاکہ اس دریافت کو ترقیاتی مرحلے میں آگے بڑھایا جا سکے۔قابل ذکر ہے کہ اس دریافت سے آئل انڈیا کمپنی کے غیر ملکی اثاثوں کی قدر میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ مستقبل میں پیداوار شروع ہونے پر کمپنی کی آمدنی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نہ صرف ہندوستان میں، بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی مضبوط پکڑ بنا رہی ہے۔