نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کی سپلائی پوری طرح قابو میں ہے اور کسی بھی طرح کی کمی کا خدشہ نہیں ہے۔ پیٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایل پی جی، پیٹرول اور ڈیزل کی دستیابی معمول کے مطابق برقرار ہے اور عوام کو کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔حکومت کے مطابق 22 اپریل 2026 کو ایک ہی دن میں 52 لاکھ سے زائد گھریلو ایل پی جی سلنڈروں کی تقسیم کی گئی، جو سپلائی نظام کی مضبوطی کا واضح اشارہ ہے۔ وزارت نے بتایا کہ ایل پی جی کی آن لائن بکنگ کی شرح 98 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ کے ذریعے 94 فیصد ترسیل انجام دی جا رہی ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور صارفین کو بہتر سہولت مل رہی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مہاجر مزدوروں کے لیے شروع کی گئی 5 کلو والے چھوٹے سلنڈر کی اسکیم کو بھی اچھا ردعمل مل رہا ہے۔ یکم اپریل 2026 سے اب تک 17 لاکھ سے زیادہ چھوٹے سلنڈر فروخت ہو چکے ہیں۔ اس اسکیم کے فروغ کے لیے ملک بھر میں 8200 سے زائد بیداری کیمپ بھی لگائے گئے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔حکومت متبادل ایندھن کو فروغ دینے پر بھی زور دے رہی ہے۔ مارچ 2026 سے اب تک 5.18 لاکھ نئے پی این جی کنکشن فعال کیے جا چکے ہیں اور 5.87 لاکھ نئے صارفین رجسٹر ہوئے ہیں۔ اسی دوران 41 ہزار سے زیادہ افراد نے ایل پی جی کنکشن چھوڑ کر پی این جی کو اختیار کیا ہے، جسے صاف اور سہل ایندھن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ گھریلو استعمال کے لیے ایل پی جی، پی این جی اور ٹرانسپورٹ کے لیے سی این جی کی سپلائی سو فیصد جاری ہے۔ کمرشیل ایل پی جی کی تقسیم میں اسپتالوں، تعلیمی اداروں، دوا سازی، آٹوموبائل اور زراعت جیسے اہم شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ ضروری خدمات متاثر نہ ہوں۔ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی فروخت کو روکنے کے لیے حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ اب تک ملک بھر میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ چھاپے مارے جا چکے ہیں، جن میں 66 ہزار سے زائد سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 1100 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے اور 255 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے 298 ڈسٹری بیوٹرز پر جرمانہ عائد کیا ہے جبکہ 70 کی سپلائی معطل کی گئی ہے۔حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور گھبراہٹ میں ایندھن کی خریداری سے گریز کریں، کیونکہ سپلائی پوری طرح برقرار ہے۔ ساتھ ہی صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے بکنگ کریں اور متبادل ایندھن جیسے پی این جی یا برقی چولہوں کے استعمال کو فروغ دیں۔ادھر خلیج کے علاقے میں بعض غیر ملکی جہازوں پر فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ہندوستانی ملاح شامل تھے۔ حکومت کے مطابق تمام ہندوستانی ملاح محفوظ ہیں اور اب تک 2680 سے زائد افراد کو بحفاظت وطن واپس لایا جا چکا ہے، جن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 65 افراد شامل ہیں۔حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایندھن کی سپلائی، سمندری آپریشن اور بیرون ملک ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔