ملک کی راجدھانی دہلی میں بہار کے کھگڑیا کے رہنے والے زومیٹو ڈیلیوری بوائے کے قتل کے بعد سیاست گرما گئی ہے۔ واقعہ کو لے کر تمام اپوزیشن پارٹیوں نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد اور آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے اس معاملہ پر مرکزی اور ریاستی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بی جے پی حکومت میں بہاری ہونا سب سے بڑا جرم اور غداری ہو گیا ہے۔ نئی دہلی میں کھگڑیا کے رہنے والے 23 سالہ نوجوان پانڈو کمار کو صرف اس لیے گولی مار کر قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ بہاری تھا۔ بہاری ہونے کے جرم میں ہی اس کا دوست کرشن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔‘‘भाजपा सरकार में “बिहारी होना” ही सबसे बड़ा अपराध और देशद्रोह हो गया है। नई दिल्ली में खगड़िया निवासी 23 वर्षीय युवक पांडव कुमार की सिर्फ इसलिए गोली मार कर हत्या कर दी गई क्योंकि वह ‘बिहारी’ था। ‘बिहारी होने के अपराध’ में ही उसका दोस्त कृष्ण जिंदगी और मौत के बीच जूझ रहा है।देश…— Tejashwi Yadav (@yadavtejashwi) April 28, 2026تیجسوی یادو مزید لکھتے ہیں کہ ’’ملک کی راجدھانی دہلی میں جس جگہ بہاری سمجھ کر گولی ماری گئی ہے وہاں میونسپل کونسلر بی جے پی کا، رکن اسمبلی بی جے پی کا، رکن پارلیمنٹ بی جے پی کا، وزیر اعلیٰ بی جے پی کی، بہار کا وزیر اعلیٰ بی جے پی کا، نصف درجن غیر فعال بڑبولے مرکزی وزراء بہار کے، لیفٹیننٹ گورنر بی جے پی کے، وزیر داخلہ بی جے پی کے اور وزیر اعظم بی جے پی کے ہیں۔ بی جے پی بہاریوں کے لیے مصیبت بن چکی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا ان بھاجپائیوں میں سے کسی میں ہمت ہے کہ ایک غریب محنت کش بہاری کا قتل کرنے والے اس قاتل پولیس والے کو سزا دلوا سکے؟‘‘بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’اصل میں 21 سالوں کی نتیش-بی جے پی کی خراب پالیسیوں کے سبب بہار والوں کو مجبوراً دوسری ریاستوں میں ہجرت کرنا پڑتا ہے اور دوسری ریاستوں کی بی جے پی حکومت اور انتظامیہ محنت کش بہاریوں کو عزت کی نگاہ سے نہیں بلکہ شک، نفرت اور احساس کمتری کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ہر بار بہاری پر ظلم ہوتا ہے اور مہاجر بہاری استحصال کے شکار ہوتے ہیں۔‘‘آر جے ڈی لیڈر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت آنے والی دہلی پولیس پر لوگوں کی سیکورٹی کی ذمہ داری ہے، اسی نے محض بہاری ہونے کے سبب مجرم مان لیا اور گولی مار دی۔ اس سے زیادہ قابل مذمت واقعہ کیا ہو سکتا ہے؟ بڑبولے این ڈی اے لیڈران اس واقعہ پر بل میں چھپے ہوئے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ہمار مطالبہ ہے کہ بہاریوں کو ہراساں کرنے والی مبینہ ڈبل انجن حکومت جلد معاملے کی گہرائی سے جانچ کروا کر قصورواروں کے خلاف کارروائی کرے۔ متاثرہ کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دے۔ قاتل کو سزا دلائے۔ یہ واقعہ بہار اور بہار والوں کی عزت پر حملہ کے مترادف ہے۔ اس لیے انصاف چاہیے اور بلا تاخیر چاہیے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ ہفتہ (25 اپریل) کی رات دہلی پولیس کی اسپیشل سیل میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل نیرج نے شراب کے نشے میں زومیٹو کے ایک ڈیلیوری بوائے پانڈو کمار (23) کو گولی مار دی تھی، جس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ جبکہ گولی لگنے کے سبب اس کا دوست کرشن شدید طور پر زخمی ہو گیا ہے اور وہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔ یہ واقعہ جعفرکلاں تھانہ حلقہ کے راوتا گاؤں میں پیش آیا ہے۔