ایشیا میں جیٹ فیول کی قلت کے خدشہ پر انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے خبردار کر دیا۔آئی اے ٹی اے کے مطابق ایندھن کی قلت اور بڑھتی قیمتوں کے باعث فضائی سفر مزید مہنگا ہونےکی پیشگوئی ہے اور موجودہ فیول بحران کورونا وبا جیسا نہیں کیونکہ اس میں فضائی سفر کی طلب بدستور برقرار ہے۔چیف آئی اے ٹی اے کا کہنا ہے کہ جیٹ فیول کی قلت کا زیادہ اثر ایشیا، یورپ، افریقہ اورلاطینی امریکاپر پڑے گا، موسم گرما کے عروج پر ایندھن کی شدیدقلت پیداہو سکتی ہے۔چیف آئی اے ٹی اے ولی والش نے کہا کہ ایئر لائنز کیلئےفیول کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ برداشت کرنا ممکن نہیں، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہِ راست صارفین پر منتقل ہو گا۔ایشیا اور یورپ میں فیول راشننگ کے باعث متعدد پروازیں منسوخ ہونےکا خدشہ ہے۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہیورپیورپ میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کرگیا جس کے بعد طیاروں کے لیے صرف چھ ہفتوں کا جیٹ فیول باقی رہ گیا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کے پاس طیاروں کے لیے صرف چھ ہفتوں کا جیٹ فیول رہ گیا ہے، جس کے بعد پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔فاتح بیرول کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ سے ایندھن کی درآمدات فوری طور پر بحال نہ ہوئیں تو جون تک صورتحال انتہائی نازک ہو جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے بعد بھی توانائی کی پیداوار کو مکمل طور پر بحال ہونے میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ان کے مطابق سعودی عرب کے مقابلے میں عراق میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا عمل زیادہ طویل اور مشکل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی چین متاثر رہی تو عالمی سطح پر فضائی سفر اور معیشت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔