فن لینڈ میں جوہری ہتھیاروں پر عائد پرانی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

Wait 5 sec.

پیرس (25 اپریل 2026): فن لینڈ میں قانون سازوں نے ایسی ترامیم تجویز کر دی ہیں جن کے تحت ایٹمی ہتھیاروں کی درآمد اور ملکیت پر عائد پابندی ختم کی جا سکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فن لینڈ کی وزارتِ دفاع نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے جوہری توانائی کے قانون اور فوجداری ضابطے میں ترمیم کے لیے تجاویز پارلیمان میں پیش کر دی ہیں۔ان مجوزہ ترامیم کے تحت فن لینڈ میں جوہری ہتھیاروں کی درآمد، نقل و حمل، فراہمی اور ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جا سکے گی۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اس اقدام کا مقصد قانونی رکاوٹیں دور کر کے قومی دفاع کو مضبوط بنانا اور نیٹو کے اجتماعی دفاعی نظام سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔فن لینڈ کے وزیر دفاع انٹی ہیکانن کا کہنا ہے کہ پرانا قانون جدید سیکیورٹی حالات سے ہم آہنگ نہیں تھا، ہمارا مقصد نیوکلیئر ہتھیار رکھنا نہیں صرف دفاعی تیاری ہے، اور یہ تجویز غیر یقینی سیکیورٹی ماحول میں ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ قانونی رکاوٹیں ختم کرنے سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور نیٹو کی جوہری ڈیٹرنس میں فن لینڈ کا کردار بھی مضبوط ہوگا۔میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ ’’غیر استعمال شدہ‘‘ رہ گیا ہے: ایرانفن لینڈ میں 1987 کے قانون کے تحت جوہری ہتھیاروں کی ملک میں موجودگی مکمل طور پر ممنوع تھی، اب حکومت کی جانب سے نئی پالیسی نیٹو دفاعی حکمت عملی کے مطابق لائی جا رہی ہے، جب سے فن لینڈ نیٹو رکن بنا ہے وہ دفاعی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے لگا ہے۔موجودہ قانون میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی درآمد اور منتقلی اور ذخیرہ مکمل طور پر ممنوع تھی۔ روس کی جانب سے فن لینڈ کے اقدام کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دے دیا گیا۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ فن لینڈ نے روس کے قریب ہونے کی وجہ سے دفاعی حکمت عملی سخت کی ہے۔