نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے الزام لگایا ہے کہ ریکھا گپتا کی قیادت والی بی جے پی حکومت بجلی کمپنیوں کے ہزاروں کروڑ روپے کے قرض کی وصولی صارفین سے کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں دہلی کے عوام کو شدید مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ عام صارفین کے لیے ’440 وولٹ کا جھٹکا‘ ثابت ہوگا۔دیویندر یادو نے کہا کہ بجلی اپیلیٹ ٹریبونل نے دہلی الیکٹرک ریگولیٹری کمیشن کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں بقایا رقم کی وصولی کے لیے زیادہ وقت مانگا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے اگست 2025 کے حکم کے مطابق بجلی کمپنیوں کو چار سال کے اندر اپنا بقایا وصول کرنا ہے، جبکہ ریگولیٹری کمیشن نے اس کے لیے 7 سال کی مہلت طلب کی تھی۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے بجلی کمپنیوں کو نرخ بڑھانے کی اجازت دی تو بجلی کے بلوں میں 70 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپریل 2026 سے رہائشی اور تجارتی صارفین دونوں کو مہنگی بجلی کا سامنا کرنا پڑے گا، جو پہلے ہی مہنگائی سے متاثر عوام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔دیویندر یادو نے کہا کہ بجلی کمپنیوں کا یہ دعویٰ کہ کئی سالوں سے نرخ نہیں بڑھے، حقیقت کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سے تین برسوں میں پی پی اے سی اور دیگر سرچارجز کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود حکومتوں نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی اور کمپنیوں کو منافع کمانے کا موقع فراہم کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں کے گزشتہ برسوں کے قرض کو صارفین سے وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے، کیونکہ جب کمپنیوں نے منافع کمایا تو صارفین کو کوئی راحت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بی ایس ای ایس راجدھانی پاور لمیٹڈ، بی ایس ای ایس یمنا پاور لمیٹڈ اور ٹاٹا دہلی پاور ڈسٹری بیوشن لمیٹڈ کے بقایا جات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقم تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے بنتی ہے، جو 2014 سے زیر التوا ہے۔دیویندر یادو نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر بجلی نرخوں میں اضافے پر روک لگائے اور منصوبہ بند طریقے سے سبسڈی فراہم کرے تاکہ عوام کو راحت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عوامی مفاد میں فیصلہ نہ لیا تو دہلی کے لوگوں کو بھاری بجلی بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔