واشنگٹن (28 اپریل 2026): وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کرنے والے ملزم کول ایلن کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔روئٹرز کے مطابق ملزم کول ایلن پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے، ملزم کو 3 الزامات پر مبنی کیس میں اسلحے سے متعلق الزامات کا بھی سامنا ہے۔27 اپریل کو واشنگٹن میں کول ایلن پر فردِ جرم عائد کی گئی کہ اس نے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی، اور اگر جرم ثابت ہو گیا تو اسے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔31 سالہ کول ٹامس ایلن نے واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں اپنی پہلی پیشی کے دوران جیل کی نیلی وردی پہن رکھی تھی۔ حکام کے مطابق اس نے دو دن پہلے وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے ڈنر میں فائرنگ کی کوشش کی تھی، جو صحافیوں اور سیاست دانوں کی سالانہ تقریب ہوتی ہے، مگر حملہ ناکام رہا۔حملہ ڈراما تھا؟ کیرولائن لیوٹ کا ردِ عملاستغاثہ کی وکیل جوسلین بیلنٹائن نے عدالت کے سامنے کہا ’’اس نے امریکا کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی۔‘‘ امریکی عدالت نے ملزم کو عارضی طور پر حراست میں رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔ صدر ٹرمپ پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں، کیس کی مزید سماعت جمعرات کو ہوگی۔حملہ آور کول ٹامس ایلن ممکنہ طور پر امریکی صدر اور انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے مشتبہ ہتھیاروں کی تصاویر بھی جاری کر دی ہیں، حملہ آور سے شاٹ گن، پستول اور چاقو سمیت متعدد چھریاں برآمد ہوئیں۔یہ واقعہ امریکا میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں قدامت پسند سیاسی کارکن چارلی کرک کو ایک ریلی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جب کہ اس سے کچھ ماہ قبل مینیسوٹا کی ایک ڈیموکریٹ قانون ساز اور ان کے شوہر کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ خود ٹرمپ بھی 2024 کے صدارتی انتخابات کے دوران دو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کے مطابق تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ایلن نے ٹرمپ کو اس لیے نشانہ بنایا کیوں کہ اس نے واقعے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں صدر کو ’’غدار‘‘ کہا تھا اور دیگر توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔