واشنگٹن (28 اپریل 2026): صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ قاتلانہ حملے کے بعد صدر کی سیکیورٹی پروٹوکول کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے جب کہ سیکیورٹی مزید بہتر بنانے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا۔وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں صدر ٹرمپ پر یہ تیسرا قاتلانہ حملہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہفتے کے روز ’’اظہارِ رائے کی آزادی‘‘ کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی جا رہی تھی جسے حملہ آور نے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔انھوں نے کہا کہ امریکی سیاست میں اختلافات کو پُرامن رہنا چاہیے اور ملک سے سیاسی تشدد کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ نے جتنی دھمکیوں اور حملوں کا سامنا کیا، ماضی میں کسی امریکی رہنما نے نہیں کیا۔کیرولائن لیوٹ نے الزام عائد کیا کہ بعض ڈیموکریٹ رہنما صدر ٹرمپ کے خلاف نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو مسلسل فاشسٹ اور آمر قرار دیا جاتا ہے، جب کہ بعض رہنماؤں کے بیانات ملک میں تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے امریکی انتخابات کو دھاندلی زدہ اور دنیا کے لیے مذاق قرار دے دیاپریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حملہ چند سیکنڈز میں ہوا تاہم سیکریٹ سروس نے فوری اور مؤثر کارروائی کی۔ انھوں نے کہا کہ ہر صورت حال ہر وقت مکمل طور پر پرفیکٹ نہیں ہو سکتی۔اس سوال پر کہ سوشل میڈیا پر اس حملے کو ایک ڈراما قرار دیا جا رہا ہے، کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ امریکی محکمہ انصاف واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور حقائق سامنے لائے جا رہے ہیں۔ ایران سے متعلق سوال پر کیرولائن لیوٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی نئی تجاویز پر اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی ہے۔