قومی راجدھانی علاقہ میں قبل ازوقت ہی گرمی نے اپنا اثر دکانا شروع کردیا ہے۔ بدلتے موسم کے درمیان پیر کو دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو معمول سے 3.5 ڈگری زیادہ ہے۔ کم از کم درجہ حرارت 15.1 ڈگری سینٹی گریڈ تھا جو اوسط سے 1.7 ڈگری زیادہ ہے۔ محکمہ موسمیات اور نجی موسمیاتی اداروں کے مطابق آنے والے دنوں میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں اضافہ جاری رہے گا۔موسم کا حال: راجدھانی دہلی میں گرمی کی دستک، درجہ حرارت 31 ڈگری سے متجاوزماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ میدانی علاقوں پر فعال ہوئے مغربی طلاطم کا اثر کمزور پڑ رہا ہے، جب کہ کوئی بھی نیا سسٹم فی الحال پہاڑی علاقوں تک ہی محدود رہنے کا امکان ہے۔ اسکائی میٹ کے مطابق صاف آسمان اور تیزدھوپ کی وجہ سے دہلی میں اگلے چند دنوں میں درجہ حرارت 2 سے 3 ڈگری سیلسیس بڑھنے کا امکان ہے۔ اس کا اثر صبح اور دوپہر کے وقت زیادہ محسوس ہوگا۔شہر کے مختلف موسمیاتی مراکز کی بات کریں تو آیا نگر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 31.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ صفدرجنگ میں 30.9 ڈگری سیلسیس، رج میں 30.7 ڈگری سیلسیس، لودھی روڈ میں 30.2 ڈگری سیلسیس اور پالم میں 29.1 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔ کم سے کم درجہ حرارت بھی معمول سے زیادہ رہا جس سے راتیں نسبتاً گرم محسوس ہورہی ہیں۔ ہوا کے معیار کی صورتحال بھی پوری طرح سے تسلی بخش نہیں ہے۔مارچ کے پہلے ہفتے میں شدید گرمی کا الرٹ! گجرات سے مہاراشٹر تک درجہ حرارت میں ہوگا اضافہ، جانیں دہلی کا موسمدہلی میں 24 گھنٹے کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 193 ریکارڈ کیا گیا، جو ’معتدل‘ زمرے میں آتا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی کے زیادہ تر ایئر کوالٹی مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر میٹر’ معتدل‘ اور کچھ اسٹیشنوں پر’خراب‘ مزرے میں رہا جبکہ پنجابی باغ میں اے کیو آئی 243 کے ساتھ’ بہت خراب‘ درج کیا گیا۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور مستحکم موسم کی وجہ سے آلودگی کے ذرات زیادہ دیر تک ہوا میں موجود رہ سکتے ہیں۔ ایئر کوالٹی ارلی وارننگ سسٹم نے 5 مارچ تک ہوا کا معیار ’معتدل‘رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس لیے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دوپہر کی دھوپ سے گریز کریں، وافر مقدار میں پانی پئیں اور حساس جلد والے لوگوں کو احتیاط برتنے کی صلاح دی گئی ہے۔