امریکا کیمشرق وسطیٰ کے14 ملکوں سے اپنے شہریوں کو فوری نکلنےکی ہدایت

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکا نے مشرق وسطیٰ کے چودہ ملکوں سے اپنے شہریوں کوفوری انخلا کی ہدایت کردی اور کہا شہری بحرین،مصر،ایران،عراق سے فوری نکل جائیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے شہریوں کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت ایک درجن سے زائد ممالک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔محکمہ خارجہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری برائے قونصلر امور، مورا نامدار نے کہا ہے کہ امریکی شہری حفاظتی خدشات کے باعث دستیاب کمرشل پروازوں کے ذریعے جلد از جلد ان ممالک سے روانہ ہو جائیں۔نئی سفری ہدایات کا اطلاق بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن پر ہوتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو انخلا کیلئے تجارتی ذرائع استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔دوسری جانب عمان میں امریکی سفارتخانے نے بھی سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے عملے کے انخلا کی تصدیق کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بین الادارہ جاتی ایمرجنسی ٹاسک فورس بھی قائم کر دی گئی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں اعلیٰ حکام سمیت سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ہلاک ہوئے تھے اور اس کے ردعمل میں ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ تنازع چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس کے طویل ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔دوسری جانب اس جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔امریکی حکام کے مطابق توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے جلد اقدامات کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔