اسرائیل نے آیت اللہ خامنہ ایکو قتل کرنے کے لئے ریکی کیسے کی؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے

Wait 5 sec.

لندن : برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو ہدف بنانے کا خفیہ منصوبہ سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کی شہادت کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ نے عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے برسوں پر محیط اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس آپریشن کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے تہران کے تقریباً تمام ٹریفک کیمروں کو برسوں پہلے ہیک کر لیا تھا، ان کیمروں کے ذریعے حاصل ہونے والی تصاویر کو خفیہ کوڈز میں تبدیل کر کے تل ابیب کے سرورز پر منتقل کیا جاتا تھا۔برطانوی اخبار کا کہنا تھا کہ اسرائیل تہران کی پاستور اسٹریٹ (جہاں اہم حکومتی دفاتر اور رہائش گاہیں ہیں) پر آنے جانے والے ہر شخص، بالخصوص اعلیٰ حکام کے وفادار محافظوں اور ڈرائیوروں پر نظر رکھے ہوئے تھا، اسرائیل کو یہ تک معلوم تھا کہ کون سا اہلکار اپنی ذاتی گاڑی کہاں پارک کرنا پسند کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے محض جاسوسی نہیں کی بلکہ سوشل نیٹ ورک اینالیسس (Social Network Analysis) نامی ایک پیچیدہ ریاضیاتی طریقہ کار استعمال کیا اور اربوں کی تعداد میں ڈیٹا اکٹھا کر کے ایرانی حکام، ان کے محافظوں، ڈیوٹی کے اوقات اور ان کے گھروں کے پتوں کا ایک مکمل ‘پیٹرن آف لائف’ (معمولاتِ زندگی کا نقشہ) تیار کیا گیا۔فنانشل ٹائمز نے کہا کہ سرائیلی سگنلز یونٹ اور موساد کے ایجنٹس نے ہزاروں بریفنگز کے ذریعے اس ڈیٹا کو حتمی شکل دی اور پیچیدہ الگورتھمز کی مدد سے یہ بھی پتا لگایا گیا کہ کون سا محافظ کس شخصیت کی حفاظت پر مامور ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل گزشتہ سال جون میں ہی ایران کا دفاعی نظام مفلوج کر چکا تھا، حملے کے وقت پاستور اسٹریٹ کے قریب ایک درجن سے زائد موبائل فون ٹاورز میں خلل پیدا کر کے مواصلاتی نظام کاٹ دیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے سائبر حملوں کے ذریعے ایران کی نگرانی (Surveillance) کی صلاحیت کو ختم کر دیا تھا تاکہ اسرائیلی طیاروں کی راہ ہموار ہو سکے۔آپریشن ‘ایپک فیوری’ (Epic Fury) اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ آپریشن تھا، سی آئی اے (CIA) اور اسرائیل کو یقینی طور پر معلوم تھا کہ ہفتے کی صبح خامنہ ای پاستور اسٹریٹ کے قریب واقع کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔امریکی صدر نے انسانی ایجنٹ سے ملنے والی انٹیلی جنس پر ‘ایپک فیوری’ حملوں کا حکم دیا، جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے اس کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے، اگر ایرانی سپریم لیڈر بنکر میں ہوتے تو شاید بچ جاتے، لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے ان امریکی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ ایران کے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز تھا کیونکہ اسرائیل اس کے لیے 25 سال سے تیاری کر رہا تھا۔